سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 292 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 292

292 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آپ کے علمی اور ادبی ذوق کا بآسانی پتہ لگ سکتا ہے۔حضرت اُم المؤمنین کا جود و کرم حضرت اُم المؤمنین کے جود و کرم کی اتنی روایات موجود ہیں کہ ان کو جمع کرنے سے بذاتِ خود ایک کتاب بن جاتی ہے مگر میں حضرت اُم المؤمنین کے جو دو کرم کی یہاں چند روایات بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔تفصیل آئندہ جلد میں دی جا سکے گی۔عزیز مکرم ملک مبارک احمد صاحب ایمن آبادی نے دور روایتیں حضرت ام المؤمنین کے جود و کرم کے متعلق لکھی ہیں۔پہلی روایت انہوں نے جناب مولوی محمد الدین صاحب سابق مبلغ امریکہ کی زبانی لکھی ہے جو انہوں نے کسی گفتگو کے دوران میں بیان کی۔(۱) کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت اُم المؤمنین موسم سرما کے شروع ہوتے ہی اپنے خرچ سے بہت سی نئی رضائیاں تیار کر وا کر غرباء میں تقسیم فرما یا کرتی تھیں۔(۲) دوسرا واقعہ انہوں نے اپنی ہمشیرہ کے متعلق لکھا ہے جو حضرت اماں جان کے پاس رہا کرتی تھیں۔۱۹۲۶ء میں جب اُن کی شادی ہوئی تو حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام نے مبلغ ساٹھ (۶۰) روپے کا طلا ئی گلو بند جو غالبا ۳ تو لے خالص سونے کا تھا۔اسے تحفہ عطا فرمایا۔مولوی سید عبد الحلیم صاحب کنکی کی بیوی محترمہ مسرت النساء عرف روضہ بی بی نے سونگڑا ( اڑیسہ ) و نے حضرت ام المؤمنین کی ایسی ہی عطا کا ذکر کیا ہے وہ لکھتی ہیں کہ : ۱۹۳۸ء میں میں پہلی بار قادیان گئی۔اڑیسہ میں چونکہ برقعے کا رواج نہیں۔اس لئے میں مونگھیر کی ایک بہن سے ایک برقع مستعار لے کر آئی جو غلاف کی طرح سے تھا اور دامن کی طرف سے اوڑھا جا تا تھا اور اسی طرف سے نکالا جاتا تھا۔مجھے اول تو برقعے کی عادت نہ تھی اور کچھ برقعہ غلاف کی طرح تھا۔اسے پہن کر میں راستہ میں چل نہ سکتی تھی۔مائی کا کو صاحبہ مجھے مہمان خانے سے اس طرح لے گئیں جیسے کوئی اندھے کو لے کر جاتا ہے اور اسی طرح لے جا کر مجھے اماں جان کے دربار میں کھڑا کر دیا۔حاضرات مجلس نے قہقہہ مارا۔برقعہ اُتارا تو میری ساڑھی کا پلو اور بال سب الٹ گئے اور اُلجھ گئے۔