سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 257
پھر تحریر فرمایا: 257 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ” میرا پہلا لڑ کا زندہ موجود ہے۔جس کا نام محمود ہے۔ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا۔جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا پایا محمود_۴۳ پھر تحریر فرمایا: دوسرا لڑکا جس کی نسبت الہام نے بیان کیا کہ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے۔وہ اگر چہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا۔مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی معیاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں۔پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔نادان اس کے الہامات پر ہنستا ہے اور احمق اس کی پاک بشارتوں پر ٹھٹھا کرتا ہے۔کیونکہ آخری دن اس کی نظر سے پوشید ہے۔اور انجام کار اس کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔۴۴ پھر تحریر فرمایا: گی۔پھر فرمایا: ” جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹا دے ”اے وے لو گو جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو۔بلکہ خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔۴۵ پھر تحریر فرمایا: اور یہ دھو کہ کھانا نہیں چاہئے کہ جس پیشگوئی کا ذکر ہوا ہے وہ مصلح موعود کے حق میں ہے۔کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفی کے حق میں ہیں اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے اور ضرور تھا کہ اس کا آنا معرض التوا میں رہتا جب