سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 217 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 217

217 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایسی حالت میں اگر خدانخواستہ آپ کو ایسی بیوی ملتی جو ان ذمہ واریوں کا احساس نہ کر سکتی جو بحیثیت ایک نبی کی بیوی ہونے کے اس پر عائد ہوتی ہیں تو وہ کام جس کی تکمیل کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے بالکل ادھورا رہ جاتا۔اس لئے اس کام کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کہ آپ کے بیوی بچے اس ذمہ واری کے بوجھ کو برابر کا اُٹھائیں اور وہ اخلاق اور اعمال میں دوسروں کے لئے نمونہ ہوں۔اس اصل کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَالطَّيْتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَتِ پاکیزہ خصائل عورتیں پاکیزہ خصائل مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ خصائل مرد پاکیزہ خصائل عورتوں کے لئے ہیں۔اس اصل کے ماتحت اس زمانے کے نبی کی بیوی کا دنیا میں سب سے بڑی نیک اور پاکیزہ خاتون ہونا یقینی امر تھا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گھر اس دنیا میں جنت کا نمونہ تھا۔حضرت اُم المؤمنین جب اس گھر میں تشریف لائیں تو ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو با وجود رشتہ دار ہونے کے بالکل الگ تھلگ تھے اور حضرت اقدس سے ایک دشمنی کا رنگ رکھتے تھے۔حضرت اُم المؤمنین کو اس وقت دتی والی کے نام سے رشتہ دار لوگ پکارتے تھے۔حضرت اُم المؤمنین اور سوت میں لکھ چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پہلی بیوی بھی تھیں جن سے ایک عرصہ سے عملی رنگ میں علیحد گی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دوسری شادی کر لی تو آپ نے پہلی بیوی کو کہلا کر بھیجا کہ : اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہ گار ہوں گا۔اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔میں تم کو خرچ دوں گا۔تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ میں اب بڑھاپے میں طلاق کیا لوں گی مجھے خرچ ملتا رہے میں اپنے باقی حقوق چھوڑ تی ہوں۔‘“ یہ روایت حضرت اُم المؤمنین کی زبانِ مبارک سے بیان ہو کر سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۳۳ مصنفہ حضرت میرزا بشیر احمد صاحب میں مفصل طور پر شائع ہو چکی ہے۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلی بیوی سے الگ ہی تھے مگر حضرت ام المؤمنین باوجود