سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 91 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 91

91 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے آدمی ہیں کی ایک روایت ہے کہ میں چونکہ قوالی سن لیا کرتا تھا ایک دفعہ حضور نے مجھے فرمایا۔میاں اسمعیل ! قوالی کی لذت کتنی دیر رہتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ بھی نہیں جب تک سنتے رہو۔فرمایا۔ہم تو چاہتے ہیں کہ وہ لذت ہو جو ہمیشہ قائم رہے۔اس طرح حضور نے موسیقی کی اس کمی کا اظہار فرمایا جسے صوفی کمال سمجھ رہے تھے۔اُردو علم ادب پر آپ کا احسان حضرت خواجہ میر درد کو عربی، اردو، فارسی میں کامل دستگاہ تھی۔اردو زبان پر آپ کا بڑا احسان تھا کہ آپ نے اس زبان کو صاف کیا۔آپ فرماتے ہیں: ”اے اُردو گھبرانا نہیں تو فقیروں کا لگایا ہوا پودا ہے خوب پھلے پھولے گی۔تو پروان چڑھے گی۔ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ قرآن حدیث تیری آغوش میں آکر آرام کریں گے۔با دشاہی قانون اور حکیموں کی طباعت تجھ میں آ جائے گی اور تو سارے ہندوستان کی زبان مانی جائے گی۔‘۲۵۴ یہ ایک پیشگوئی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہوئی جبکہ قرآن وحدیث نے آ کر آرام حاصل کیا۔بارہ دری میں مہینہ میں ایک دو دفعہ مشاعرہ ضرور ہو جایا کرتا تھا۔میرحسن دہلوی، جھمن لال ،شاہ محمدی، شیخ محمد قیام ، حکیم ثناء اللہ خان ، لطیف علی، میرزا اسمعیل، شیخ محمد بقا، محمد پناہ خان ، لاله مکند لال، میرزا محمد جان لالہ نرائین داس، علی نقی وغیرہ شاعری میں اُن کے شاگرد تھے۔وفات حضرت خواجہ میر درد صاحب اپنی پیشگوئی کے مطابق 1199 ہجری میں صفر ۲۴ کو صبح صادق کے وقت ۶۸ برس کی عمر میں عالم قدسی کی طرف رحلت فرما گئے۔آپ کو آپ کے والد کے داہنے پہلو میں دفن کیا گیا۔آپ کی اولاد آپ کا ایک ہی فرزند تھا جس کا نام خواجہ صاحب میرا اور لقب ضیاء الناصر اور الم متخلص تھا اور آپ