سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 90
90 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت خواجہ میر در دصاحب فرماتے ہیں : درویشی فقط قرب الہی کا نام ہے اور فقیری شعبدہ بازی اور بھنڈیلہ پن کا نام۔“ وہ تمام ان امور کو جو شریعت کے خلاف تھے ناجائز قرار دیتے تھے۔حضرت خواجہ میر درد کو موسیقی میں کمال دستگاہ حاصل تھی۔ان کے پاس بڑے بڑے موسیقار جمع ہوا کرتے تھے۔اس زمانہ کا مشہور موسیقار فیروز خان آپ کے فن موسیقی کا بڑا مداح تھا۔ہر ماہ کی دوسری تاریخ کو بارہ دری میں خواجہ محمد ناصر صاحب کی یاد میں محفل موسیقی ہوا کرتی تھی اور اس کا بڑا شاندار انتظام کیا جاتا تھا۔ہزار ہا لوگوں کا مجمع ہو جاتا۔خواجہ میر درد بھی تشریف لے آتے۔آپ کی مجلس میں سب لوگ دوزانو ہو کر بیٹھا کرتے تھے۔ایک دفعہ شاہ عالم بادشاہ دہلی آپ کی مجلس میں آئے اور دوزانو نہ بیٹھے آپ نے بادشاہ سے کہا کہ اگر آپ فقیروں کی محفل میں آیا کریں تو دوزانو ہو کر بیٹھا کریں۔بادشاہ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے پاؤں میں درد تھا اس وجہ سے بیٹھ نہ سکا۔اس سے اس جرات اور شجاعت کا پتہ لگتا ہے جو حضرت میر درد میں تھی اور یہ شرف سعادت اس خاندان میں چلی آئی۔حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی جرات وصاف گوئی مشہور اور زبان زد ہے۔وہ حق گو تھے اور اس کے کہنے میں دلیر۔آپ کا مقولہ تھا کہ میں نغمہ وسرود کو عالموں فاضلوں کی طرح سنتا ہوں۔جو علم ریاضی و طبیعی پڑھتے پڑھاتے ہیں اور اس کے دقائق کو خوب جانتے ہیں مگر حکماء کی طرح اس کا اعتقاد نہیں رکھتے اسی طرح میں بھی موسیقی کے ساتھ تو غسل کیا کرتا ہوں کیونکہ موسیقی ریاضی کی ایک پُر میوہ شاخ ہے۔وہ اسے علمی نگاہ سے دیکھتے تھے۔نہ کہ ذریعہ حظ نفس۔پھر فرمایا: ” میں نے نہ آج تک اپنے کسی مرید کو راگ سننے کی اجازت دی نہ اپنی اولا د کو کیونکہ جو چیز ہماری شریعت میں ممنوع اور ہمارے طریقہ میں مکر وہ ہو اس کیلئے میں کب کسی کو اجازت دے سکتا ہوں۔میں اپنے تئیں گناہگار جانتا ہوں اور ہمیشہ اسی دھیان میں ہوں کہ راگ سننے سے تو بہ کروں جو لوگ راگ نہیں سنتے ہیں میں انہیں اپنے سے اچھا جانتا ہوں۔۲۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو کبھی موسیقی نہیں سی۔البتہ آپ کی مجلس میں کبھی کبھی کوئی شاعر اپنے اشعار خوش گلوئی سے سنا دیتا تھا۔آپ کے ایک مرید شیخ محمد اسمعیل صاحب سرسا وی جو صوفیانہ طرز