سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 621 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 621

621 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور پریشان حال لوگوں کا خاص ہمدرد، بہترین اور لائق میز بان ، شاگردوں کا محسن و خیر خواہ استاد ہی نہیں بلکہ حقیقتا ایک مشفق و مهربان باپ، اسلامی اخلاق و آداب کا مجسمہ، صاحب وقار شخصیت ،عوام وخواص میں ہر دل عزیز دوست و دشمن کا ممدوح، علوم اسلامیہ کا بحر مو آج حضرت میر محمد اسحق صاحب کا انتقال نہایت ہی المناک جماعتی صدمہ ہے۔ابھی حضرت اُم طاہر احمد صاحبہ کی غمناک وفات کی وجہ سے جماعت احمدیہ کے قلوب کا غم تازہ تھا کہ آنا فانا ایک اور روح فرسا صدمہ پیش آیا جو اتنا بڑا نقصان ہے جس کا ازالہ بہ ظاہر بہت مشکل ہے۔حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ اپنے علم وفضل ، اپنے زہد و تقاء، روشن دلی اور معاملہ فہمی کی وجہ سے ایک خاص انسان اور احمدیت کا درخشندہ ستارہ تھے۔حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا مرغوب مشغلہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کے مقدس حالات کی اشاعت تھی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے آپ کو حد درجہ کا عشق تھا جن اصحاب کو حضرت میر صاحب کا درس حدیث سننے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ آپ اپنے رقت آمیز طرز بیان سے حاضرین کے قلوب کو کس طرح مسحور کر لیا کرتے تھے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم کے معانی و مطالب بیان کرنے میں آپ کو کیسا ید طولیٰ حاصل تھا۔آپ حدیث کا درس اس والہانہ انداز سے دیتے کہ سامعین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ان کا پُر شوکت بیان دلوں کیلئے آب حیات کا کام دیتا۔وہ اپنے دور نزدیک کے شاگردوں کو یادر کھتے۔۱۹۳۵ء میں جب میرے والد منشی محمد دین صاحب مختار عام صدر انجمن احمد یہ اور بعض دوسرے اصحاب کو پولیس نے ایک معاملہ میں حراست میں لے لیا تو حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ نے خاکسار کے بڑے بھائی شیخ مبارک احمد صاحب مبلغ مشرقی افریقہ کولکھا : کل مورخہ ۱۱۵ جون ۱۹۳۵ء کو عید گاہ کی زمین کی حد بندی قائم کرتے ہوئے آپ کے والد صاحب اور بعض دوسرے احباب کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔مگر پھر ضمانت پر چھوڑ دیا۔سچے سلسلوں میں ایسی خدمات کا موقعہ ملنا بھی قابل رشک ہے۔آپ کو مبارک ہو کہ آپ کے والد کو یہ موقعہ ملا ہے“۔حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنے علم سے ہزار ہا انسانوں کو مستفیض کیا۔آخر جب خدا تعالیٰ کے نزدیک آپ اپنا فرض ادا کر چکے تو اس نے اپنے پاس بلالیا اور ہم لوگ یہ بیش بہا علمی خزانہ