سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 588 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 588

588 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دُکھ اور تکلیف اور ہمت آزما ابتلاء یہ تھا کہ مخالفین نے طوفان بے تمیزی پیدا کر دیا مگر اللہ تعالیٰ نے ان مبارک والدین کو وہ مطمئن قلب اور معرفت کی مسرت و انبساط سے لبریز دل دیا ہوا تھا کہ اس سے اطمینان اور سکینت کی لہریں بجلی کی طرح نکل کر ہر دل کو سکینت بخشی تھی۔صاحبزادی شوکت کی وفات اور بالآخر صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات اور صاحبزادی امتہ النصیر کی وفات یہ سارے واقعات ایسے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اندر درس رضا بالقضاء رکھتا ہے۔صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی وفات پر تو خدا تعالیٰ نے اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔یہ تو وفات اولاد کے واقعات تھے۔ان حوادث کے بعد وہ عظیم الشان واقعہ ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کا ہے۔حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کی شان ظاہر ہے۔وہ وجود پاک جس کی بعثت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت فرمایا اور جو موعودا قوام تھا اس کی اہلیہ ہونے کا شرف لانظیر شرف ہے اس کی وفات ہر حیثیت سے اتنا بڑا صدمہ ہے کہ الفاظ اس کے بیان کرنے سے قاصر ہیں مگر خدا تعالیٰ کی رضا پر اپنی ساری خوشیوں کو مقدم کرنے کی جو قوت آپ کو خدا تعالیٰ سے عطا ہوئی تھی اس نے اس موقعہ پر بھی صبر جمیل و عظیم کا نمونہ دکھایا اور اس کے متعلق میں اس وقت کے موجود احباب کے تاثرات بیان کر آیا ہوں۔حضرت اُم المؤمنین نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی عمر پائی ہے (متعنا الله بطول حیاتھا- آمین ) اور یہ لمبی عمر بھی خدا تعالیٰ کی وحی کے ماتحت اس عظیم الشان نشان کی صداقت کیلئے تھی جو مصلح موعود کے رنگ میں پورا ہونے والا تھا۔قدرتی طور پر اس عرصہ میں بعض اور حادثات پیش آئے۔سب سے اوّل حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ آپ کے والد ماجد کی وفات تھی۔ماں باپ کتنے بھی بوڑھے ہو جائیں اور ان کی اولاد بھی خواہ کتنی ہی بڑی عمر کی ہو جاوے تب بھی فطری خواہش یہی ہوتی ہے کہ ماں باپ کا سایہ سلامت رہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی وفات ایک صدمہ اور ابتلا ء تھا۔پھر حضرت نانی اماں کی وفات صدمہ پر صدمہ تھا۔مگر خدا تعالیٰ کی خدیجہ کے منہ سے کسی وقت کوئی ایسا لفظ نہ نکلا جو شکوہ یا بے صبری کا ہو۔یہ تو اپنے خاندان کے واقعات تھے۔خدا تعالیٰ نے ان کو مومنوں کی ماں بنا دیا۔انہوں نے ہمیشہ ماں ہی کے فرائض ادا کئے اپنے روحانی بچوں کی ہمدردی تسلی اور غمخواری اپنی اولاد سے کم نہیں کرتی ہیں۔پھر سلسلہ میں بعض ایسے بزرگ تھے جو اپنے اپنے وقت میں سلسلہ کے ستون