سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 538 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 538

538 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مزید ازالہ و ہم اگر چہ میں صراحت کے ساتھ واقعات کی روشنی میں بیان کر آیا ہوں کہ حضرت اُم المؤمنین ہمیشہ نظام خلافت کی اہمیت اور احترام کا سبق جماعت کو اپنے عمل سے دیتی رہی ہیں مگر باوجود اس کے چشم بد میں اعتراض کرنے پر آمادہ رہتی ہے وہ لوگ جو اپنی بدقسمتی سے جماعت سے کٹ چکے ہیں اس قسم کے اعتراض کرتے رہتے ہیں اور مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ ایک طرف یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صادق یقین کرتے ہیں اور اس وحی پر جو آپ پر نازل ہوئی ایمان لاتے ہیں اور اس وحی میں یہ پڑھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی نعمت اور اپنی خدیجہ قرار دیا اور ایک مبارک نسل کی ماں بتایا اور اہلِ بیت کی تطہیر کی بشارات بارہا دیں اور شر سے محفوظ رکھنے کی الہامی دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل کی اور دوسری طرف نہایت سختی کے ساتھ اعتراض کرتے ہیں۔حضرت ام المؤمنین کے متعلق کہ وہ ہمیشہ کہتے ہیں وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت سے خوش نہ تھیں۔چنانچہ پیغام صلح کی ۳ دسمبر ۱۹۴۳ء کی اشاعت میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو مخاطب کر کے لکھا: بقیہ حاشیہ: حضرت ام المؤمنین کے پاس تشریف لے گئے۔انہوں نے کہا۔میں کسی کی محتاج نہیں ہے اور نہ محتاج رہنا چاہتی ہوں۔جس پر قوم کا اطمینان ہے اس کو خلیفہ کیا جائے اور حضرت مولانا کی سب کے دل میں عزت ہے وہی خلیفہ ہونے چاہئیں۔اس کے بعد حضرت مولانا کو بھی تکلیف دی گئی۔حضرت مولانا کے ہاتھ پر ہم سب نے معہ فرزندان و میر صاحب قریباً بارہ سو آدمی نے باغ کے درختوں کے نیچے بیعت کی۔اس کے بعد ہم سب واپس آئے اور کھانا کھایا۔پھر نماز ظہر پڑھ کر تمام لوگ باغ میں جمع ہوئے اور نماز عصر پڑھ کر جنازہ پڑھا گیا اور پھر حضرت مولانا نے ایک خطبہ پڑھا۔بیعت کے وقت اور خطبہ کے وقت عجب نظارہ تھا۔کوئی آنکھ نہ تھی۔جو پر نم نہ تھی۔بعد خطبہ سب حضرت اقدس کا چہرہ دیکھنے کیلئے گئے پھر اس کے بعد حضرت اقدس کا جنازہ قبر پر لے جایا گیا اور حضرت اقدس کے جسم نورانی کو سپردخاک کیا۔یہ ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔گرمی کا یہ عالم مگرجسم میں کسی قسم کا فتور نہ تھا۔چہرہ مبارک بالکل صاف تھا۔کسی قسم کی بے رونقی نہ تھی۔اس کے بعد ہم سب واپس آئے اور رات کو سور ہے۔ے میں کسی کی محتاج نہیں یعنی چونکہ میں کسی کی بفضلہ محتاج نہیں ہوں۔اس لئے میں اپنی ذاتی کسی فائدہ کی غرض سے رائے نہیں دوں گی۔بلکہ میرے نزدیک جسے جماعت منتخب کرے وہی خلیفہ ہونا چاہئے۔اور حضرت مولوی صاحب اس کے اہل بھی ہیں۔