سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 539 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 539

539 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ” جناب میاں صاحب یاد رکھیں یا نہ رکھیں لیکن تاریخ سلسلہ کبھی واقعات کو نظر انداز نہیں کر سکتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر جب حضرت مولانا نورالدین صاحب کا انتخاب ہوا تو اس پر جناب میاں صاحب کی والدہ صاحبہ محترمہ نے انتہائی اظہار ناراضگی و اضطراب فرمایا تھا اور اسی زمانہ سے میاں صاحب کو خلیفہ بنانے کی مہم کا آغاز کر کے پروپیگنڈہ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔“ اس کا پہلا جواب تو قرآن مجید کی یہ آیت ہے۔لعنت اللہ علی الکاذبین - میں نے اس کتاب میں حضرت خلیفہ المسیح الاول کا ایک بیان درج کیا ہے جو آپ نے حضرت ام المؤمنین کی اس شفقت کے متعلق ہے کہ آپ کے کھانے کے لئے سیدہ محترمہ نے کچھ رقم بہت ہی الحاح سے پیش کی اور پھر اسی کتاب میں یہ واقعہ بھی درج کیا ہے کہ حضرت ام المؤمنین نے حضرت خلیفہ اول کے حکم کی تعمیل میں اپنے ہاتھ سے ایک طالب علم کی نہایت غلیظ رضائی کی مرمت کی اور حضرت خلیفہ ثانی کے متعلق تو آپ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میری جتنی اطاعت انہوں نے کی ہے تم میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کی (مفہوم) پھر بھی خدا کی نعمت اور خدیجہ اور پاک نسل کی ماں پر اس قسم کا نا پاک افترا۔العجب ثم العجب ! ۲۸ مئی ۱۹۰۸ ء جمعرات بقیہ حاشیہ: آج میں قادیان میں رہا اور ہم کو میر ناصر نواب صاحب نے بلایا اور وہاں بھی عجیب عالم تھا۔سب رور ہے تھے اور میر صاحب نے کہا بھائی میری سختی طبع آج تک تھی۔میرے باپ تھے تو مرزا صاحب تھے اور بیٹے تھے تو مرزا صاحب تھے۔اب مجھ سے تمہارا چھے کام نہیں ہو سکتا۔ہم سب نے کہا کہ ہم آپ کو ویسا ہی قابل عزت سمجھتے ہیں۔جیسا پہلے اور آپ ہم کو اپنا پورا خادم پائیں گے اور پھر ہم یعنی خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور دونوں ڈاکٹر صاحبان اور میں اور مولوی محمد علی حضرت ائم المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی اظہار عقیدت کی اور ہر ایک نے کچھ کچھ رقم نذر پیش کی۔ہے تمہارا کام یعنی انجمن کی تعمیرات وغیرہ کا کام۔جس کے منصرم حضرت میر صاحب حضور علیہ السلام کے زمانہ میں تھے۔یہ تمام ڈائری خود حضرت نواب صاحب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر سے نقل کی گئی ہے اور حضور علیہ السلام کی وفات کے متعلق ایک مستند بیان ہے جو قابل اندراج تاریخ سلسلہ ہے اور کوئی فقرہ اس میں سے محذوف نہیں کیا گیا۔(خاکسار محمد اسمعیل)