سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 497
497 بسم الله الرحمن الرحيم سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۱۹) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر بھیج دی ماں“ کہا کرتے تھے بے تعلقی ہی تھی۔جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ہاں آپ اخراجات وغیرہ با قاعدہ دیا کرتے تھے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہ گارہوں گا۔اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا۔انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔بس مجھے خرچ ملتا رہے۔میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔حتی کہ محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا۔بلکہ ان کے ساتھ رہیں۔تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۰) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہارے دادا نے قادیان کی جائیداد پر حقوق مالکانہ برقرار رکھوانے کے لئے شروع شروع میں بہت مقدمات کئے اور جتنا کشمیر کی ملازمت میں اور اس کے بعد روپیہ جمع کیا تھا اور وہ قریباً ایک لاکھ تھا۔سب ان مقدمات پر صرف کر دیا۔والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ اس زمانہ میں اتنے روپے سے سو گنی بڑی جائیداد خریدی جا سکتی تھی۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۱) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود پانچ بہن بھائی تھے۔سب سے بڑی حضرت صاحب کی وہ ہمشیرہ تھیں جن کی شادی مرزا محمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ ہوئی تھی حضرت صاحب کی یہ ہمشیرہ صاحب رویا و کشف تھیں۔ان کا نام مراد بی بی تھا۔ان سے چھوٹے مرزا