سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 476
جائے گی۔476 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ معزز ناظرین۔حضرت سیدہ کے یہ بے مثال حسنِ سلوک اور از حد مادرانہ شفقتیں ہم عاجزوں، نابکاروں پر جو طرح طرح کی گندگیوں اور نجاستوں میں ملوث ہیں۔یقیناً ہمارے دلوں کی تاریکیوں اور گہرائیوں میں اثر پذیر ہو کر ہمیں ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے جارہے ہیں۔میں کس منہ سے کس زبان سے اور کن الفاظ سے حضرت سیدہ کے عظیم الشان اخلاق کریمانہ اور پر انوار شفقت ورحمت کا اظہار کروں۔میری گویائی اور میری قلم بالکل قاصر ہیں۔والله على ما اكتب شهيد- ۱۰۔اس عاجز کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت سیدہ ام المؤمنین مدظلہ العالی کے اسوہ حسنہ کے متعلق یہ چند روایات مشتے نمونہ از خروارے کی مصداق ہیں۔ورنہ فی الحقیقت حضرت سیدہ بیسیوں دفعہ ہمارے غریب خانہ پر تشریف فرما ہوتی رہی ہیں اور ہر دفعہ حضور پُرنور (متعنا الله بطول حَياتِها) قریباً آدھ گھنٹہ تشریف رکھتی رہی ہیں۔ہر موقعہ کے متعلق حضرت سیدہ کی بے حد شفقت اور اخلاقِ کریمانہ کی نسبت عجیب وغریب روایات بیان کی جاسکتی ہیں۔مگر اس خیال سے کہ حضرت عرفانی کبیر سلمہ اللہ تعالیٰ۔شاید مزید روایات بوجہ تنگی جگہ کے اور بوجہ دیر ہو جانے کے درج نہ فرما سکیں اس لئے اسی اکتفا کی جاتی ہے۔مختصراً یہ کہ حضرت سیدہ ممدوحہ کی ذرہ نوازی اور غریب پروری ہم عاجزوں نابکاروں پر انتہا درجہ کی ہوتی رہی ہے جس کی مثال ہمیں کسی بھی اقرب ترین رشتہ داروں حتی کہ والدین میں بھی نہیں پائی گئی اور یہاں تو آقا اور غلام ناچیز و حقیر غلام کا تعلق ہے۔مگر شفقت اور رحمت ہمدردی اور ذرہ نوازی بحد کمال رہی ہے۔باوجود بیماری ضعف و نقاہت اپنے ناچیز غلاموں کے غریب خانہ پر تشریف لے جانا اور وہاں دیر تک قیام فرمانا اور گھر کے سب حالات دریافت فرمانا اور مفید و با برکت مشورے دینا اور دعائیں فرما نا غرض کہ اس عاجز کی قلم پوری طرح ادا ئیگی سے قاصر ہے۔حضرت سیدہ نے از راہ کرم پروری ہماری چار پائیوں پر بیٹھ کر کئی بار نمازیں ادا کیں اور دعائیں فرمائیں۔جبکہ اس عاجز کے خلاف مقدمات کورٹ نے جھوٹے ثابت کئے اور یہ عاجز عزت کے ساتھ بری ہوا اور کورٹ نے فیصلہ کیا کہ مقدمات کرنے والوں پر زیر دفعہ ۲۵۰ ضابطہ فوجداری جھوٹے مقدمات کرنے کی وجہ سے کارروائی کی جائے تو قادیان میں اطلاع پہنچنے پر سب سے پہلے بوقت صبح حضرت سیدہ ام المؤمنین ہی ہمارے غریب خانہ پر تشریف فرما ہوئیں اور اس عاجز کی دختر عزیزہ عنایت بیگم کو جو اس وقت گھر میں