سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 469 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 469

469 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بہت بڑے طول وعرض میں پھیلی ہوئی ڈھاب تھی ہمارے مکان کے سامنے بہت گھنے سایہ کی چند کیکریں تھیں ( ببول ) اس وقت ہوا بہت لطیف تھی اور پھر ٹھنڈی چھاؤں۔حضرت اماں جان نے والدہ صاحبہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ بہو یہاں پر اتنی ٹھنڈی اور عمدہ ہوا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ یہاں لیٹ کر کچھ دیر آرام کروں۔والدہ صاحبہ نے اسی وقت جگہ کو صاف کرایا اور چار پائی بچھا کر اس پر عمدہ بستر بچھا دیا اور کچھ نیچے فرش کر دیا جہاں دوسری خواتین بیٹھ گئیں۔حضرت اماں جان نے میری ہمشیرہ محمودہ خاتون مرحومہ کو جن کی ابھی شادی بھی نہ ہوئی تھی۔نہایت پیار اور محبت بھرے الفاظ میں کہا کہ بیٹی میرے پاس بیٹھ کر میرے سر میں جلون کرو۔آپا مرحومہ آہستہ آہستہ آپ کے سرمبارک میں اپنی انگلیاں پھیرتی رہیں ادھر والدہ صاحبہ نے جلد جلد کچھ مرغ ذبح کرائے اور فوراً کھانے کا انتظام شروع کر دیا۔حضرت اماں جان نے بلاوا بھیج کر اپنے گھرانے کے بعض دوسری سیدات کو بھی بلا لیا جس میں سے ام ناصر احمد کے متعلق مجھے اچھی طرح یاد ہے۔تھوڑی دیر کے بعد کھانا تیار ہو گیا اور والدہ صاحبہ نے وہیں دسترخوان لگوا دیا حضرت اماں جان نے اہل بیت وسیدات اور دوسری خواتین کے ہمراہ کھانا تناول فرمایا اور خوب سیری سے کھانا کھایا اور والدہ صاحبہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ بہو تم نے کھانا ایسا لذید پکایا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ کھانے سے ہاتھ نہ اٹھاؤں مگر پیٹ کہتا ہے کہ بس کرو۔غرض نہایت بے تکلفی سے کھانا کھایا اور تھوڑی دیر تک دو پہر کو آرام فرمایا اور بعد میں نہایت خوش خوش دعائیں دیتی ہو ئیں تشریف لے گئیں یہ واقعہ اس وقت سے لے کر آج تک میری آنکھوں کے سامنے اکثر آ جاتا ہے اور اس سے پیشتر میں یہی سمجھتا تھا کہ حضرت اماں جان ہمارے خاندان سے کس قدر شفقت اور محبت اپنے دل میں رکھتی ہیں مگر آج مجھے اس واقعہ میں حضرت اُم المؤمنین کے بلند اخلاق کے بے شمار پہلو نظر آئے! ( نوٹ ) حضرت اُم المؤمنین کی اپنے خدام کی دلداری ،عزت افزائی کے ان واقعات میں تربیت اولاد کے عملی سبق بھی پائے جاتے ہیں۔مرحومہ محمودہ خاتون کو جو ارشا د فرمایا اس میں یہی سبق ہے کہ بچوں کو بزرگوں کی خدمت کرنے کی عادت ڈالی جاوے اور ان کو نکما اور بے کار نہ رہنے دیا جاوے۔” دوسرا واقعہ سیدۃ النساء حضرت اُم المؤمنین کے سادہ اور بے لوث اخلاق کا یہ ہے کہ ہمشیرہ مرحومہ محمودہ خاتون کی شادی تھی اس وقت قادیان کی آبادی بہت محدود تھی اور بیاہ شادیوں میں اڑوس