سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 468
468 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں عام طور پر لوگ اپنے رقعہ یا ضروری پیامات حضرت صاحبزادگان بلند اقبال کے ذریعہ بھیجتے تھے اور مجھے یاد نہیں کہ ان میں سے کبھی کسی نے انکار کیا ہو۔غرض یہ تربیت کا ایک بہترین مظاہرہ تھا۔پھر ارشد صاحب کا صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو ایک غلط مفہوم لے کر باغ کی طرف لے جانا حضرت اُم المؤمنین کے لئے کسی خفگی اور غصہ کا موجب نہیں ہوا بلکہ آپ نے اس کو ہنس کو ٹال دیا تا کہ چھوٹے بچے کا دل نہ ٹوٹے اور پریشانی اور خوف اس کے نشو و نما پر مؤثر نہ ہوں۔حضرت ائم المؤمنین نے واقعہ کی نوعیت کو ٹھنڈے دل سے سو چا محض جذباتی رنگ میں نہیں لیا آپ نے خیال کیا کہ باہر لے جانے کا مطلب اس نے یہی سمجھا بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں جو ایسے مواقع پر حوصلہ سے کام لیں مگر یہ تو خدا تعالیٰ کی نعمت کی زندگی کا ضابطہ عمل تھا۔میں ان واقعات کو محض اس لئے جمع کر رہا تھا کہ ہمارے گھروں کی تربیت اسی اصل اور نہج پر ہو تا کہ وہ گھر جنت بن جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ وحی ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا گھر جنت تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا یآدم اسكن اَنْتَ وَزَوْجُكَ الجَنَّة یوسف علی عرفانی کے تاثرات یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ میں بچہ ہی تھا مگر اس قدر چھوٹا بچہ بھی نہ تھا جو دنیا و مافیا سے بے خبر ہو ہاں کمسن ضرور تھا مگر کہتے ہیں کہ الْعِلْمُ فى الصغر كالنقش فی الحجر اسی مثال کے مصداق مجھے بھی اپنے بچپن کے اکثر واقعات ایسی اچھی طرح یاد ہیں کہ ذراسی محویت میں وہ تمام واقعات ہو بہو آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں یہ واقعہ جس کے لکھنے کی آج میں سعادت پاتا ہوں۔میری کمسنی کا مشاہدہ ہے۔قادیان کی بہستی اس وقت بالکل ایک دیہات کا رنگ لئے ہوئے تھی۔تھوڑے سے گھر تھے اور تھوڑے سے افراد اس میں آباد تھے مگر اس وقت کی قادیان با وجود چھوٹا سا گاؤں ہونے کے بھی اپنے اندر ہزاروں لطافتیں لئے ہوئے تھی جس سے اس وقت بھی اور آج بھی دنیا کے بڑے بڑے ممالک اور شہر محروم تھے اور ہیں۔موسم گرما کا زمانہ تھا۔صبح گزر رہی تھی کہ یکا یک حضرت اماں جان مع چند مستورات کے ہمارے گھر تشریف لائیں اس وقت ہمارا مکان دوسری وضع کا تھا جس کا صحن بہت بڑا تھا اور صحن کے سامنے