سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 453 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 453

453 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھیں کہ رسول کریم ﷺ کو یاد کر کے آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ نکل آئے ہوں۔ایک دفعہ میدہ کی روٹی کھانے لگیں تو آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو گئے۔کسی نے پوچھا یہ کیا ؟ آپ نے فرمایا۔اس لئے آنسو نکل آئے ہیں کہ خیال آیا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اس قسم کے سامان نہ تھے۔ہم جو کوٹ کوٹ کر اس کی روٹی بناتے اور وہی رسول کریم ﷺ کو کھلا دیتے۔آج اگر آپ زندہ ہوتے تو ایسی روٹی آپ کو کھلاتے۔گویا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بقیہ زندگی میں اگر کوئی چیز لطف دینے والی تھی تو وہ رسول کریم ﷺ کا ذکر ہی تھا اور آپ کی اس ساری زندگی میں یہی خواہش رہی کہ کاش رسول کریم ﷺ کے آرام و آسائش کے لئے آپ مزید قربانی کا موقعہ پاسکتیں۔یہ خدا کا چنا ہوا جوڑا تھا۔جسے ایسی برکت حاصل ہوئی۔اسی طرح اس زمانہ میں ایک جوڑا با برکت ہوا۔جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے چنا۔آپ کو خدا تعالیٰ نے شادی سے پیشتر اس شادی کے بابرکت ہونے کی اطلاع الہام کے ذریعہ دی۔اس خاندان کے بابرکت ہونے کی خبر دی اور پھر فرمایا۔یادم اسكن انت وزوجك الجنة - یہ شادی کی طرف ہی اشارہ تھا۔اس میں بتایا گیا کہ جیسے اس آدم کے لئے جنت تھی اسی طرح تیرے لئے بھی جنت ہے۔مگر اس حوا نے تو آدم کو جنت سے نکلوایا تھا۔لیکن یہ حوا جنت کا موجب ہوگی۔مجھے خوب یاد ہے۔اُس وقت تو بُرا محسوس ہوتا تھا۔لیکن اب اپنے زائد علم کے ماتحت اس سے مزا آتا ہے اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی۔مگر یہ خدا کا فضل تھا کہ با وجود یہ کہ لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ نہ تھی۔جب سے ہوش سنبھالا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کامل یقین اور ایمان تھا۔اگر اُس وقت والدہ صاحبہ کوئی ایسی بات کرتیں جو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی شان کے شایاں نہ ہوتی تو میں یہ نہ دیکھتا کہ ان کا میاں بیوی کا تعلق ہے اور میرا ان کا ماں بچہ کا تعلق ہے۔بلکہ میرے سامنے پیر اور مرید کا تعلق ہوتا۔حالانکہ میں کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ نہ مانگتا تھا۔والدہ صاحبہ ہی میری تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔باوجود اس کے والدہ صاحبہ کی طرف سے اگر کوئی بات ہوتی تو مجھے گراں گزرتی۔مثلاً خدا کے کسی فضل کا ذکر ہوتا۔تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی ہے۔اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے