سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 454
454 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا گراں گزرتا۔میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبی سمجھتا۔لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس فقرہ سے لذت پاتے تھے۔کیونکہ وہ برکت اسی الہام کے ماتحت ہوئی که یادم اسكن انت وزوجك الجنة پہلا آدم تو نکاح کے بعد جنت سے نکالا گیا تھا۔لیکن اس زمانہ کے آدم کے لئے نکاح جنت کا موجب بنایا گیا ہے۔چنانچہ نکاح کے بعد ہی آپ کی ماموریت کا سلسلہ جاری ہوا۔خدا تعالیٰ نے بڑی بڑی عظیم الشان پیشگوئیاں کرائیں اور آپ کے ذریعہ دنیا میں نور نازل کیا اور اس طرح آپ کی جنت وسیع ہوتی گئی۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے آدم کے لئے جو جوڑ انتخب کیا گیا وہ صرف جسمانی لحاظ سے تھا۔مگر اس آدم کے لئے جو چنا گیا یہ روحانی لحاظ سے بھی تھا اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔الارواح جنود مجندة - ارواح میں ایک دوسرے سے نسبت ہوتی ہے۔جب ایسی ارواح مل جائیں تو ان کے جوڑے بابرکت ہوتے ہیں۔پس مومن کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرے اور اپنی رائے پر انحصار نہ رکھئے“۔جس طرح پر حضرت اُم المؤمنین اللہ تعالیٰ کے انعامات اور برکات پر شکر گزاری کے رنگ میں ناز فرماتی ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام حضرت اُم المؤمنین کو شعائر اللہ میں سے یقین کرتے اور ایک کمال محبت اور احترام کا جذبہ رکھتے تھے کہ آپ وعدے کے فرزندوں کی ماں ہیں۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی ایک روایت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے تأثرات اور روایات پہلی جلد میں بھی آچکے ہیں مگر کاغذات کے معائنہ سے معلوم ہوا کہ ایک نہایت عجیب روایت درج نہیں ہوئی۔اس روایت سے حضرت ام المؤمنین کے اس ایمان کا پتہ چلتا ہے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بڑھتا چلا گیا۔حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ ایک روز حضرت ائم المؤمنین نے بیان فرمایا کہ جب میں پہلی مرتبہ نئی نئی آئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک بات کا مجھ پر خاص اثر ہوا اور وہ یہ ہے کہ خادمہ دودھ ابال رہی تھی اور جب دودھ میں جوش آرہا تھا تو ڈھکن اتار دیا گیا تھا۔حضرت اقدس کی