سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 449
449 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر اور آپ کے دعوی پر آپ کا ایمان۔۲۔شوہر کی سچی محبت۔اسلام سے سچا پیار ۴۔دعاؤں پر ایمان اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت وسچائی کیلئے ہر تکلیف کو برداشت کرنے کی قوت کا اپنے اندر پانا۔پہلا اور پھر یہ دوسرا واقعہ اس کچی وفاداری کا ببانگِ دہل اعلان کر رہا ہے۔جو آپ کو اپنے مقدس شوہر سے تھی۔آپ ان کی اطاعت میں اس قدر مخلص اور وفا شعار تھیں کہ ایک سوت کو قبول کرنے اور ایک سوت سے حسنِ سلوک کرنے میں دریغ نہ کرتی تھیں۔اس کی مثال ذرا ڈھونڈ وکہیں نظر آتی ہے؟ کیا حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ کا واقعہ ہزار ہا سال سے بندگانِ خدا کے سامنے نہیں آ رہا ؟ ہاجرہ کی ہجرت میں الہی قدرت کے کیا کیا راز تھے۔مگر بادی النظر میں تو یہی نظر آ رہا ہے کہ وہ دوسوتوں کا جھگڑا تھا۔رام چندر جی ہندو مذہب کے مقدس ہادیوں میں سے تھے۔ان کے بن باس کا واقعہ کیا ہے؟ وہ دو سوتوں کا جھگڑا تھا جس نے اس قدر بھیانک صورت اختیار کر لی کہ رام چندر جی مہاراج کو تو بارہ برس کے لئے بن باس جانا پڑا۔ان کے باپ راجہ دسرتھ کی موت واقع ہوگئی اور حالات کچھ کے کچھ ہو گئے۔رانی کیکئی جو بھرت کی ماں تھی ، اس نے خاوند کی موت ،سلطنت کی تباہی ان سب امور کو قبول کر لیا۔مگر اس امر کو پسند نہ کیا کہ سوت کالڑ کا تخت نشین ہو۔مگر حضرت ام المؤمنین کی سیرت کا یہ سنہری اور زرین واقعہ ایسا ہے کہ جس نے مسلمان عورتوں کی شوہر پرستی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔گویا کہ اس دل کو پہلو سے نکال کر پھینک دیا۔جس دل میں سوت کے لئے نفرت کے جذبات موجزن ہوتے ہیں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اس واقعہ پر حسب ذیل نوٹ لکھا ہے : ” برادران ! یه ایمان تو میں مسلمانوں کے مردوں میں بھی نہیں دیکھتا۔کیا ہی مبارک ہے وہ مرد اور مبارک ہے وہ عورت جن کا تعلق باہم ایسا سچا اور مصفا ہے اور کیا بہشت کا نمونہ وہ گھر ہے۔جس کا