سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 434
434 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پھر ایک اور بیوہ فضل بی بی (المعروف فجو) ایک کشمیری عورت تھی اس کے خاندان کے لوگ حضرت کے خاندان سے ہمیشہ سے خادمانہ تعلق رکھتے چلے آئے تھے۔اس بیوہ کی بھی دولڑ کیاں یتیم تھیں۔ان کے علاوہ حضرت اُم المؤمنین کا گھر ضعیف العمر اور پیرانہ سال مستورات کی پناہ گاہ تھا۔وہ اپنی زندگی کے آخری ایام نہایت آرام و آسائش سے آپ کے زیر سایہ گزارتی تھیں۔میں اگر ان کے متعلق تفصیلی تذکرہ کروں تو کتاب کا بڑا حصہ اسی میں صرف ہو جاوے۔ان عورتوں اور بچوں کے علاوہ بہت سی عورتیں اور بچے ایسے مقرر تھے جن کا کھانا مقررتھا اور موسم کے لحاظ سے ان کو کپڑے وغیرہ دیئے جاتے تھے۔چراغ اور باغ دو جو لا ہوں کے لڑکے بھی حضرت اُم المؤمنین کے زیر سایہ پرورش پاتے تھے۔ان میں سے چراغ ابھی زندہ ہے اور صاحب اولاد ہے بلکہ بوڑھا ہو گیا ہے اس نے اپنے تأثرات کو یوں بیان کیا ہے۔چراغ کا بیان میری عمر سات آٹھ سال کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے اپنی سر پرستی میں لے لیا اور رسالہ ریویو انگریزی کے اجرا تک حضرت اُم المؤمنین ( جن کو ہم اماں جان کہا کرتے ہیں ) کی خدمت میں رہا۔ریو یو کیلئے مجھے حضرت اقدس سے مولوی محمد علی صاحب نے مانگ لیا تھا۔اس وقت میری عمر گیارہ سال کے قریب ہوگی۔جب تک میں حضرت اماں جان کے پاس رہا مجھے انہوں نے کبھی نہ جھڑ کی دی اور نہ کبھی ناراض ہوئیں حالانکہ مجھ سے بعض اوقات نقصان بھی ہو جا تا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اماں جان نے حضرت حافظ حامد علی صاحب رضی اللہ عنہ کوگھی لانے کے لئے بازار بھیجا وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے اور گھی کا برتن بازار سے آتے دفعہ مجھے دے دیا میں برتن لیکر آ رہا تھا کہ میرا پاؤں پھسل گیا اور میرے گرنے کے ساتھ ہی برتن بھی گر گیا تمام گھی زمین پر بہہ گیا اور اس میں مٹی مل گئی اسی طرح پر اسے اکٹھا کر کے لے آئے۔جب گھر میں لائے تو حضرت اُم المؤمنین کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی موجود تھے جب ان کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہ تو حضرت اماں جان نے ہی اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ کہا اور نہ کسی قسم کی خفگی یا نا راضگی کا اظہار کیا بلکہ حافظ صاحب کو کہا کہ یہ تو بچہ تھا لیکن آپ نے بھی خیال نہ کیا کہ برتن مجھے خود اٹھانا چاہئے۔احتیاط کرنی