سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 435
435 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بہتر ہوتی ہے۔یہ سلوک ہمارے ساتھ ہی نہ تھا بلکہ ہر خادم اور خادمہ سے ایسا ہی برتا ؤ تھا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام معہ اہل و عیال دہلی تشریف لے گئے اور دوران قیام میں ایک دن قطب صاحب کی لاٹ اور بھول بھلیاں دکھانے کے لئے تشریف لے گئے حضور کے ہمراہ میں اور پیراں دتہ پہاڑ یہ بھی تھے۔بھول بھلیاں کے پاس جب پہنچے تو میاں شریف احمد صاحب کو ( جو کہ ابھی بچہ ہی تھے ) حضرت اماں جان نے ان کو پیراں دتہ پہاڑ یہ کے سپرد کیا کہ ہم ابھی سیر کر کے آتے ہیں اور تم یہیں ٹھہرو۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود حضرت اماں جان اور صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ( حضرت امیر المومنین ) صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اور غالبا نا نا جان بھی سیر کے لئے گائڈ کو لیکر چلے گئے۔میں بھی ساتھ تھا۔گائڈ نے ہم سب کو اپنے ساتھ لیا اور ایک رسی کی مدد سے تا کہ گم نہ ہو جائیں ہم بھول بھلیاں میں داخل ہوئے۔صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب نے سب کو غیر موجود پا کر رونا شروع کیا اور پیراں دتہ خود ہی صاحبزادہ صاحب کو لیکر بھول بھلیاں میں داخل ہو گیا اور راستہ بھول گیا۔صاحبزادہ صاحب کے رونے کی آواز سن کر حضرت اُم المؤمنین گھبرا گئیں۔اس پر گائڈ کو بھیجا گیا اور اس نے آواز دے کر کہا کہ جہاں کھڑے ہو وہیں رہو پھر گانڈ جا کر لے آیا اور حضرت اُم المؤمنین کو تسلی ہو گئی مگر پیراں دتہ کو کچھ نہ کہا کہ تم کو جب منع کر دیا گیا تھا پھر کیوں لیکر اندر چلے آئے۔حضرت ام المؤمنین کے جود و کرم کا میں کیا ذکر کروں۔آپ ہمارے ساتھ اپنے بچوں ہی کی طرح سلوک کرتی رہیں نہ کبھی ہمارے کھانے میں امتیاز کیا نہ کبھی ہم کو نوکر یا خادم سمجھا۔جب میری شادی ہوئی تو حضرت اماں جان نے فرمایا کہ دلہن کی ڈولی پہلے میرے ہاں لانا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور حضرت اماں جان نے میری بیوی کو کچھ روپے اور کپڑوں کا نہایت عمدہ جوڑا عطا فر مایا اور ڈولی لانے والے کہاروں کو بھی انعام دیا۔میری بیوی اس شفقت سے بے حد خوش ہوئیں اور یہ وقتی بات نہ تھی ہمیشہ ہی ہمارے حال پر نظر شفقت رہتی ہے۔میں جب اماں جان کے ہاں رہا کرتا تھا تو میرے ساتھ مرزا عمر الدین اور مہر دین بھی رہا کرتے تھے اور ہم یتیم تھے اس لئے ہماری خاص طور پر خبر گیری رکھی جاتی تھی۔ہمارے ختنے بھی حضرت اماں