سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 414
414 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کافی گھی آٹے میں ڈالا تو ایک عورت نے شکایت کی کہ حسن بی بی نے آٹے میں کافی گھی ڈال دیا ہے۔آپ نے اس کو جواب دیا کہ پھر تم کو اس سے کیا اس نے ٹھیک کیا ہے۔چشم پوشی اور درگزر کے اس پیکر پر خدا کی بے شمار رحمتیں ہوں۔محمود عرفانی (y) ایک مرتبہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے میرا دودھ پی لیا۔حضرت ام المؤمنین نے مجھے ایک جوڑا کپڑوں کا اور پانچ روپے نقد عطا فرمائے۔( نوٹ ) میں حضرت اُم المؤمنین کی فیاضیوں اور داد و دہش کو دیکھ کر انہیں اطول اليد (یعنی لمبے ہاتھ والی ) ماں کہا کرتا ہوں۔غربا اور یتامی و مساکین کی خبر گیری پرورش اور ان کی زندگی کے لئے بہترین تجاویز کرنے کی وجہ سے آپ کا نام ائم المساکین ہے۔مائی امام بی بی صاحبہ کا بیان محمود عرفانی مائی امام بی بی مرحوم محمد اکبر ٹھیکہ دار بٹالہ کی بیوہ ہیں۔میاں محمد اکبر صاحب سَابِقُونَ الْاَوَّلُونَ میں سے تھے اور انہوں نے قادیان ہی میں وفات پائی تھی۔ان کی وفات کے بعد مائی امام بی بی حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں رہ گئیں۔اکثر آپ کے ساتھ سفر وحضر میں رہنے کا موقعہ ملا۔وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت اُم المؤمنین کا سلوک اپنی خادمات سے ہمیشہ ایسا رہتا ہے جیسے ایک مہربان ماں کا اپنی اولاد سے ان کے دکھ سکھ میں شریک رہتی ہیں اور کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں کبھی ان کو حقیر نہیں سمجھا۔اپنے عزیزوں کا سا سلوک کرتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا خوف آپ کو ہر وقت رہتا ہے۔کثرت سے عورتیں آپ کی ملاقات اور زیارت کو آتی رہتی ہیں۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی گھبراہٹ کا اظہار کیا ہو یا چہرہ پرشکن آیا ہو بلکہ ہر ایک سے نہایت محبت اور پیار سے باتیں کرتی ہیں اور کبھی اپنی زبان سے نہیں کہتی ہیں کہ چلی جاؤ۔ہر ایک کی مہمان نوازی کرتی ہیں۔گرمی کا موسم ہو تو شربت وغیرہ سے تواضع کرتی ہیں اور کھانا کھلاتی ہیں اور یہ کام خادمات پر نہیں چھوڑتیں بلکہ خود اپنے ہاتھ سے کرتی ہیں۔