سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 382
382 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ محبت خالصۂ رضائے الہی کے لئے تھی ہر وقت اپنے ساتھ رکھتیں سیر میں بھی وہ ساتھ رہتی۔جوان ہو جانے پر اس کی شادی کی تقریب پر کافی جہیز دیا جو میرے وہم و گمان سے بالا تھا۔یہ حضرت ام المؤمنین کی فیاضی ، شفقت اور سیر چشمی کا ایک ایسا واقعہ ہے جو ہر وقت میرے قلب پر ایک خاص اثر پیدا کرتا ہے اس وقت تک حضرت اُم المؤمنین میری لڑکی میرے داماد اور اس کے بچوں کا خاص طور پر خیال رکھتی ہیں میرے بچوں کو شفقت مادری کے یاد آنے کا موقعہ ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ گو جننے والی ماں مرگئی مگر ہماری پرورش کرنے والی روحانی ماں زندہ ہے اور اللہ اسے تا دیر سلامت رکھے۔آمین (۳) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی حیات میں جو آخری جاڑا آیا تو آپ اپنے دن کا بستر ہ مجھے رات کو سونے کے لئے عطا فرمایا کرتے صرف ایک چارخانی چادر منگوالیا کرتے پھر جب رات کو میں اپنے کمرہ میں پہنچتا تو وہ چادر موجود ہوتی حضور کی وفات کے بعد میں نے حضرت اُم المؤمنین سے وہ بسترہ مانگا تو آپ نے فرمایا کہ وہ تو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ اور شیخ رحمت اللہ صاحب بانٹ کر لے گئے ہیں میں نے عرض کیا وہ چادر چار خانی (جس کے سرخ خانے ہیں ) مجھے دید میں اور میں دروازہ پر کھڑا ہو کر واما السَّائِل فلا تنهر کی رٹ لگاتا رہا۔آخر آپ نے فرمایا چادر دھوبی کے ہاں گئی ہے جب آئے گی دے دوں گی۔چنانچہ از راہ لطف و کرم آپ نے وہ چادر مجھ کو عطا کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تبرک ہونے کے لحاظ سے اور حضرت اقدس کی ایک یادگار ہونے کی وجہ سے حضرت اُم المؤمنین کے لئے ایک ایسی متاع تھی جس کی کوئی قیمت سونے چاندی کے سکوں میں نہیں ہوسکتی مگر آپ نے اپنے ایک ادنیٰ خادم کے سوال کور دنہ فرمایا اور ایثار کر دیا۔میں اس عطیہ کو بے انتہا عزیز رکھتا رہا ہوں اسے ایک وقت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس بطور امانت رکھا پھر بیت المال میں بھی کچھ عرصہ تک رکھا اور اب وہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے گھر بطور امانت رکھی ہوئی ہے اس وصیت کے ساتھ کہ جب پہلا بادشاہ قادیان میں آئے تو اس کے سپر د کر دی جاوے اور اسے کہہ دیا جاوے کہ ایک صحابی نے آپ کو تحفہ دی ہے اس کی آرزو تھی کہ اس طبیہ عجائب گھر کو بیاس تک لے جاوے اور اس کے لئے ایسے لوازمات پیدا کرے کہ یہ رہتی دنیا تک قائم رہے۔( نوٹ ) اس موقعہ پر میرے دل میں ایک خاص جوش پیدا ہوا اور میں اسے روک نہیں سکتا دماغ