سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 367
367 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تقریر دلپذ یہ جو خان محمد عبد اللہ خاں صاحب نے فرمائی آپ نے فرمایا کہ اس جلسہ کا اجلاس آج اس لیے کیا جا رہا ہے کہ چونکہ نصرت آباد اسٹیٹ میں فصل نہایت شان دار ہوا ہے۔اس لئے پہلے رب العزت والعرش کا شکریہ ادا کیا جائے۔پھر ان کارکنوں کی خدمات کا اعتراف کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے میری امداد کے لئے مجھے دیا ہے۔جب میں اپنی اسٹیٹ کے رقبہ کو دیکھتا ہوں تو ایک رشک کی نظر دوسری اسٹیوں کی طرف اُٹھ جاتی ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو دیکھتا ہوں جو اس رقبہ کی پیداوار کی شکل میں ہم کو مل رہا ہے تو میرا دل اطمینان اور شکریہ سے لبریز ہو جاتا ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں تو فیق دی کہ اس رقبہ میں محنت اور کوشش سے کام کر سکیں اور بہترین ثمرات حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی دیئے جو کہ اس فارم میں اس جذبہ اور محبت کے ساتھ کام کرتے ہیں گویا کہ یہ ان کا اپنا ذاتی رقبہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو محبت اور خلوص سے بھر دیا ہے۔میری موجودگی اور عدم موجودگی ان کے لئے برابر ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔اس کے لئے جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کروں کم ہے۔رَبِّ اوزعُنِی اَنُ اشكر نعمتك الَّتِي انعمت عَلَيَّ وَ عَلَى وَالِدَيَّ وَ أَنْ أَعمل صَالِحاً ترضَهُ وَ اصْلِح لى فى ذريتى إِنِى تُبتُ إِلَيْكَ وَانِي مِنَ المُسلمين جب میں نے ۱۹۳۳ء کے شروع میں نواب شاہ میں رقبہ حاصل کیا اور سندھ کے حالات پر نظر دوڑائی تو کیا بلحاظ قابلیت اور کیا بلحاظ بدنی استعداد میں نے اپنے آپ کو زمیندارہ کام کے بالکل نااہل پایا۔لیکن میں ضرورت مند تھا۔میں نے یہ کام ضرور کرنا تھا۔اس لئے میں نے اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے اپنی جبیں اس رحیم و کریم ہستی کے آستانہ پر رکھ دی۔جو ہر ایک بے کس بے بس انسان کا سہارا اور آسرا ہے۔میں نے عرض کی۔اے میرے اللہ مجھے دماغ دے کہ میں اس کام کے کرنے کی عقل وسمجھ نہیں رکھتا۔اے میرے مولیٰ مجھے بازو دے جو کہ اس کام کے کرنے میں میری امداد کر سکیں۔اے قادر تو انا مجھے پاؤں دے جو کہ میرے لئے چلیں کیونکہ میں کمزور ہوں۔اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو سنا اور قبول فرما یا۔آج ۱۹۴۳ ء ہے۔دس سال گزر چکے ہیں۔سب لوگ جانتے ہیں کہ میری ذات نے اس کام کی سرانجام دہی میں کیا کام کیا ہے۔لیکن محض اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل سے میرے رقبے کے