سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 335 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 335

335 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ وارث بنادے اور صبر جمیل کی توفیق عطا فرما دے۔والدہ مرزا محمود احمد خلیفہ اسیح علیہ السلام (از قادیان ) در حقیقت میری خوشدامن نے جب سے حضرت اُم المؤمنین کو دیکھا ان کے اخلاص و یک رنگی میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔وہ حضرت اُم المؤمنین کی عاشق و فدائی تھیں۔چنانچہ ایک واقعہ اسی ضمن میں درج کرتی ہوں اگر چہ حضرت ممدوحہ کا وہ مکتوب اس وقت دستیاب نہیں ہوا مگر اس کا مفہوم یاد ہے واقعہ یہ ہے کہ حضرت خوشدامن صاحبہ کے مرض الموت میں جو دس ماہ کی طویل علالت کا زمانہ تھا حیدر آباد کے ایک محترم احمدی نواب اکبر یار جنگ بہادر نے میری نند مسماۃ حاجی بیگم مرحومہ کیلئے اپنا پیغام دیا تو حضرت خوشدامن صاحبہ محض اس وجہ سے متأمل ہو گئیں کہ چونکہ نواب صاحب ایک تو پٹھان ہیں دوسرے غیر ملکی ہیں ممکن ہے بعد وظیفہ حسن خدمت اپنے وطن فرخ آباد کو میری لڑکی کو نہ لے جائیں۔تب سید صاحب نے حضرت ام المؤمنین کی خدمت میں عریضہ لکھا جس پر حضرت اُم المؤمنین نے خوشدامن صاحبہ کو خط تحریر فرمایا۔اس کا مفہوم یہی تھا کہ میں یہ مناسب سمجھتی ہوں کہ آپ اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں یہ کام کر دیں تا کہ آپ کو اطمینان نصیب ہو۔پس جو نہی حضرت ام المؤمنین کا یہ مکتوب بستر علالت پر سنایا گیا بلا کسی پس و پیش کے فوراً اسی ہفتہ میں رخصتانہ کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے بھی مرحومہ کے اخلاص اور حضرت اُم المؤمنین کے اس ارشاد پر عمل کے نتیجہ میں ایک عمدہ پھل یہ عنایت فرمایا کہ میری نند مرحومہ کو ایک اولاد نرینہ پیدا ہوئی جو کہ اس وقت بفضلہ تعالیٰ سردار محمود رشید الدین خاں طول عمره ایک ۱۹ سالہ نوجوان ہے جو علی گڑھ میں ایف اے تے کلاس کا طالب علم ہے اللہ تعالیٰ اس کو صالح مبلغ اسلام و خادم اسلام بنائے۔آمین طعام ولباس کے متعلق حضرت ام المؤمنین کی معاشرت بہ خلاف گدی نشینوں اور مشائخین کے ٹھیٹھ اسلامی سادگی پر مبنی ہے آپ کے ہاں جو ہر وقت مخلصین تحائف پیش کرتے ہیں اور آپ انہیں قبول فرماتی ہیں اگر تحفہ کھانے اب بی۔اے میں ہے۔ماشاء اللہ ( عرفانی کبیر )