سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 20 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 20

20 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وعلى عبده المسيح الموعود وو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ بخارا سے ایک امانت ہندوستان لائی گئی اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں ایک نظام اور ایک ترتیب پائی جاتی ہے اور وہ ایک با قاعدہ پروگرام کے مطابق ظہور پذیر ہوتے ہیں۔نظام اور ترتیب کی مثال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى الْأَرْضِ جَمِيعًا - ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَواهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ یعنی پہلے زمین اور زمین میں جو کچھ ہے وہ پیدا کیا۔اس لئے کہ انسان کے رہنے کے قابل بن سکے۔پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات بلندیاں بنا دیں۔یہی ترتیب تعمیر مکان میں ہوا کرتی ہے۔اول زمین ہموار ہوتی ہے۔پھر دیواریں اٹھتی ہیں۔پھر چھت بنتی ہے۔مجھے اس جگہ یہ بحث نہیں کرنی کہ زمین کو کن ادوار میں سے گزرنا پڑا۔لیکن یہ ہر صاحب علم انسان کو معلوم ہے کہ زمین کو قابل رہائش بننے کیلئے ہزار ہا سال خرچ ہوئے۔تب وہ آتشین کرہ سرد ہوا۔اور اس قابل ہوا کہ اس میں روئیدگی پیدا ہو۔اور ایسے جانور پیدا ہوں جو زہریلی ہواؤں اور باد سموم کے جھونکوں اور پتے ہوئے پہاڑوں یا زمین کے غیر موافق میدانوں میں سانس لے سکیں۔ہزار ہا سال کے لمبے عرصے کے بعد یہ زمین اس قابل ہوئی کہ اس پر انسان پیدا ہو کر زندگی بسر کر سکے۔یہ مثال نظام اور ترتیب کی ہے۔پروگرام یا لائحہ عمل کی یہ مثال ہے کہ فرمایا: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلِئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ خدا تعالیٰ نے ملائکہ سے ذکر کیا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں خلیفہ سے مراد انسان ہی تھا۔تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک پروگرام تھا۔اس پروگرام کے ماتحت اس نے زمین اور آسمان کی تخلیق کی اور اس ساری کائنات کو ترتیب دیا۔اب غور کیجیئے کہ انسانی ضرورت کو مد نظر رکھ کر زمین اور آسمان، لوہا، پتھر، صد بافتم کی دھاتیں، کوئلہ نباتات حیوانات، سورج، چاند ستارے اجرام