سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 296
296 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے مد نظر کوئی نہیں لکھتا ہو گا۔اس لئے میں بھی اپنی جگہ دم گھونٹ کر خاموش ہو رہی۔مگر اب جبکہ ہمارے قابل قدر بھائی جناب شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ( اللہ تعالیٰ آپ کی صحت و عمر میں برکت دیوے) نے اس مبارک کام کیلئے اخباری دنیا میں غلغلہ مچا دیا تو میں بھی اپنے دیرہ بینہ شوق کے مد نظر چند واقعات سپرد قلم کرتی ہوئی ڈر رہی ہوں کہ کہیں میرے اس مقالہ کو ناظرین و ناظرات حضر تہ علیا کا ایک مکمل خاکہ زندگی ہی تصور نہ فرما لیں۔اس لئے میں نے ایک فارسی شعر زیپ عنوان کیا ہے۔جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ میری ممدوحہ کی سیرت و حسنِ اخلاق کے تذکرے بہت کثیر ہیں۔میں ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔مجھے خود اپنی تنگ نگاہی صاف طور پر محسوس ہوتی ہے۔البتہ مدوحہ کے شمائل میں سے کچھ وہ بھی اپنے ذوق و نقطہ نگاہ سے پیش کرنا چاہتی ہوں۔یوں تو عاجزہ کو اب تک قادیان شریف میں ۸ - ۱۰ مرتبہ سے زیادہ بار حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔لیکن غالباً دو مواقع ایسے آئے کہ خاندان سمیت کافی طویل عرصہ تک مجھے قادیان جنت نشان میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ایک تو ۱۹۲۰ء میں جبکہ حیدر آباد میں میری خوشدامن سردار بیگم صاحبه مرحومہ کے اصرار پر سید صاحب میرے شوہر ( سید بشارت احمد صاحب) نے ہم تمام کو لیکر تقریباً ۴ ماہ قادیان شریف میں حضرت اُم المؤمنین سلمہا اللہ کے قدموں میں گزارے تھے۔پھر دوباره ۱۹۳۵ء یا ۱۹۳۶ء میں تقریباً ایک سال میں معہ اپنے جملہ متعلقین کے قادیان شریف میں رہی۔ان ہر دو موقعوں پر عاجزہ کو حضرت اُم المؤمنین سلمہا اللہ اور خاندان کی تمام محترم وقابل عزت ہستیوں کو دیکھنے کی عزت حاصل رہی۔میں بوجہ ایسے خاندان سے قریبی ربط رکھنے کے جو کہ مرشدی گھرانہ کہلاتا ہے اس امر سے زیادہ واقف اور باخبر تھی کہ عموماً مشائخین و سجادہ نشینوں کے گھروں کی معاشرت وطرز معیشت وطریق تہذیب و تمدن ولباس کا رنگ ڈھنگ بات چیت کا طور و طریق کیسا ہوتا ہے۔میرے والد مرحوم حضرت مولانا میر محمد سعید صاحب قادری مرحوم ( خدا تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے ) ایک جید مشائخ مولانا حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کشمیری مرحوم و مغفور کے واحد فرزند تھے۔جن کا مریدین کا حلقہ ۲۔۳لاکھ سے کم نہ تھا۔اسی طرح میرے تہائی قریبی رشتہ کے نانا حضرت مسکین شاہ صاحب نقشبندی مرحوم جو اعلیٰ حضرت نظام دکن اور