سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 297 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 297

297 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حیدر آباد کے ملک کے ۵ لاکھ مریدین کے مرشد تھے۔نیز میرے سُسرالی وغیرہ رشتہ داروں میں مولوی سید عمر علی شاہ صاحب و یکی میاں صاحب وغیرہ جو میرے چابکسر ہوتے تھے بڑے مرشد تھے۔اس لئے فطرتا میں اس ماحول کو جس سے میں بہت حد تک مانوس اور واقف تھی خاندان میں قیاس کرنے پر مجبور تھی۔مگر میرے ذاتی مشاہدات نے میری تمام قیاس آرائیوں پر پانی پھیر دیا مجھے نہ اُم المؤمنین میں اور نہ خاندان کی کسی خاتون میں یہ بات نظر آئی کہ وہ گفتگو و ملاقات میں کسی قسم کا تکلف کرتی ہیں یا بناوٹ کا پہلو اختیار کرتی ہیں۔یا کوئی خاص قسم کا مشائخانہ یا صوفیانہ لباس زیب تن فرماتی ہیں یاد نیاوی آرائش و زینت کی اشیاء سے اس قدر متنفر ہیں کہ گویار ہبانیت اختیار کر رہی ہیں بلکہ حضرت اُم المؤمنین اور خاندان کے اس پاکیزہ و بے ریا عمل کا اس قدر گہرا اثر ہر غائر نظر سے دیکھنے والے پر پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان پاک قلوب کے آئینہ میں ریا و بناوٹ میں خود کوملوث دیکھتا ہے۔مجھے خوب یاد ہے اور میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جبکہ میں نے اپنی خوشدامن صاحبہ مرحومہ کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم محض حضرت اُم المؤمنین کے فیض صحبت کی وجہ سے دیکھا وہ یہ کہ میری خوشدامن صاحبہ ایک بڑے امیر کبیر گھرانے کی خاتون تھیں۔جو ۲۷ سال میں ہی سو لڑکے اور ایک لڑکی کی ماں ہو کر بھر پور جوانی میں بیوہ ہو گئیں تو انہوں نے اپنی جوانی اور بیوگی کو اس قدر سادگی اور صوفیانہ رنگ میں گزارا کہ جب میری شادی ہوئی اور ان کے خاندانی طمطراق اور خدم و حشم اور امارت کے مدنظر ان کو معمولی لباس میں ملبوس دیکھا تو مجھے سخت حیرت ہوئی۔مگر جبکہ میری یہی خوشدامن صاحبہ مرحومه حضرت ام المؤمنین کی صحبت میں چند ماہ رہیں تو یہ دیکھا کہ کوئی روز ناغہ نہ ہوتا کہ وہ اس ضعیفی میں کنگھی چوٹی کر کے پاک وصاف لباس اور خوشبوؤں وغیرہ کا استعمال کر کے حضرت ام المؤمنین کی خدمت میں روزانہ جایا کرتیں اور اس کے بعد سے انتقال تک میں نے مرحومہ کو دیکھا کہ سابقہ اس دنیا دارانہ و صوفیانہ طرزِ زندگی کو بالکل خیر باد کر کے متقیانہ رنگ میں اَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِتْ کے ماتحت حسب ضرورت عمدہ لباس پہنا کرتیں۔چنانچہ جب حضرت اُم المؤمنین پر بھی یہ امر ظاہر ہوا تو وہ بہت مسرور ہوئیں۔چنانچہ جب ہماری خوشدامن صاحبہ کا انتقال ہوا تو حضرت ام المؤمنین نے ان کی اولاد کے نام ایک تعزیت نامہ اپنی انتہائی کرم فرمائی سے جو تحریر فرمایا۔اتفاقاً وہ میرے پاس محفوظ رہ گیا تھا۔وہ درج ذیل کرتی ہوں۔