سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 237 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 237

237 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں اشارہ تھا: ” اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے“۔یعنی ایک وہ لوگ ہیں جو راستبازی کے ساتھ ان تمام پیشگوئیوں پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مسلمانوں کو عطا کی گئیں۔ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے خدا تعالیٰ کے وجود پر ایک کامل ایمان پیدا ہو اور اس کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر بھی کامل ایمان پیدا ہوتا جب وہ اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے تو ان کا دل خود بخود ایمانِ کامل سے لبریز ہو جائے گا۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو منکرین ہیں۔اُن کے نزدیک نہ کوئی مسیح موعود آ نے والا تھا اور نہ اس کے ہاں کوئی موعو دلڑ کا پیدا ہونے والا تھا۔ان کے نزدیک یہ ساری باتیں یونہی خیالی اور وہمی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتلایا کہ اس موعودلر کے کی پیدائش سے صدیوں کے پرانے نوشتے پورے ہو جائیں گے۔منکروں اور مکذبوں پر اتمام محبت ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ کے قادر ہونے پر ایک عظیم الشان حجت مل سکے گی اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ میں اِنِّی مَعَكَ، إِنِّي مَعَكَ کہنے والا خدا تیرے ساتھ ہوں۔اس لحاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پیشگوئی کتنی شان اور کتنی عظمت کی تھی۔اگر خدانخواستہ یہ پوری نہ ہوتی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت تو ایک طرف رہی اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت اور خدا تعالیٰ کی قدرت سب مشکوک ٹھہر جاتی۔اس لئے اس کا ٹلنا ناممکن تھا کیونکہ یہی وہ چیز تھی جسے حاصل کر کے خدا کا برگزیدہ نبی مظفر ومنصور ٹھہرا۔یہی وہ چیز تھی جو مانگی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے دے دی تھی۔پھر کیسے ہو سکتا تھا، کہ وہ دی ہوئی عطاء جس پر خدا تعالیٰ کی اپنی سچائی اور اس کے دین ، کتاب اور سید الانبیاء اور مسیح موعود کی سچائی کا انحصار ہو، وہ ہی ٹل جائے اور یہ دیکھ کر کئی کمزور دماغ انسان اپنے آپ کو ان عظیم الشان پیشگوئیوں کا مصداق سمجھنے لگ جائیں۔ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کئی دیوانے مٹی اور پتھر کے کنکر لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ ان کو جواہرات کا ڈھیر سمجھ لیتے