سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 236
236 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دومیں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تفرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے یہ پایہ قبولیت جگہ دی۔اور تیرے سفر کو ( جو ہوشیار پور اور لد ہیا نہ کا سفر ہے ) تیرے لئے مبارک کر دیا۔۲۷ پس یہ پیشگوئی ، یہ نشان ان دعاؤں کی قبولیت پر ایک کھلی کھلی صداقت کی مہر تھا۔اس الہام میں اس پیشگوئی کی عظمت کا تذکرہ یوں فرمایا : سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح وظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر تجھ پر سلام“۔گویا کہ یہ نشان قدرت، رحمت اور قربت فضل و احسان کا نشان قرار دیا گیا اور فتح و ظفر کی کلید اور اس نشان کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی درگاہ میں مظفر قرار دئے گئے۔یہ نشان کیوں دیا گیا ؟ اس لئے کہ: ”خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام خوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور شکم لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تاوہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے“۔۲۸ یہ آٹھ عظیم الشان امور ہیں جن کی بناء پر اس پیشگوئی کا ظہور میں لانا ضروری قرار دیا گیا۔ان عظیم الشان امور کے ظہور میں لانے کے لئے جس انسان کا پیدا کیا جانا مقدر تھا۔وہ کون تھا ؟ وہ وہی شخص تھا جس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ مسیح موعود کی سچائی کی دلیل قدیم پیشگوئیوں کے مطابق ایک موعود دلڑکے کا عالم وجود میں آنا بھی تھا جو لازم اور ملزوم کی طرح سے تھے۔اس امر کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس وحی