سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 226
226 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کہیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا۔“ اس واقعہ سے سبق یہ واقعہ ہمارے گھروں کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔حضرت اُم المؤمنین دتی کی رہنے والی تھیں۔وہاں گڑ کے چاولوں کا کوئی رواج نہیں تھا۔مگر حضرت ام المؤمنین نے بحیثیت بیوی کے سب سے پہلے یہ جانے کی کوشش کی کہ میرے شو ہر کوکون کونسی چیز پسند ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت میں کیسی دور رسی تھی۔ہر عقل مند اور سلیقہ شعار عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے میاں کے گھر میں جا کر پہلے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ میرے میاں کی طبیعت کا کیا رنگ ہے۔وہ کون سے کھانے پسند کرتا ہے۔وہ کس کس چیز کو اور کس کس عادت کو پسند کرتا ہے۔جو بیوی نئے گھر میں آ کر شوہر کی پسند کی چیزوں کو معلوم کرنے کی کوشش کرے گی اس کی زندگی بحیثیت بیوی کے کامیاب زندگی ہوگی۔اس واقعہ میں جہاں حضرت اماں جان کی طبیعت کا یہ رنگ معلوم ہوا وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت کا رنگ بھی معلوم ہوا۔آپ نے کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔شور اور غل سے مکان سر پر نہیں اٹھایا۔جیسے مغلوب الغضب شوہر کرتے ہیں۔بلکہ اپنی نادم اور پریشان بیوی کو اپنی نیکی اور خوش خلقی سے اور بھی موہ لیا۔ایسے موقعوں پر شور و غل کرنے والے شوہر بھی یا تو کھپ کھپا کر اسی غذا کو کھایا کرتے ہیں اور یا خود بھی بھو کے رہتے ہیں اور بیوی کو بھی بھوکا رکھتے ہیں۔لیکن یہ واقعہ ہمارے لئے ایک ایسا سبق ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو کبھی بدمزگی کی صورت پیدا ہی نہ ہو۔اس واقعہ کی تائید میں ایک اور واقعہ: مئی ۱۸۹۳ء میں ڈپٹی عبداللہ آتھم سے امرتسر میں مباحثہ تھا۔ایک رات جبکہ خان محمد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر بڑا مجمع تھا۔اطراف سے بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔حضرت اس روز سر درد سے بیمار تھے۔شام کو مشتاقان زیارت ہمہ تن چشم انتظار بنے ہوئے تھے۔حضرت مجمع میں تشریف