سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 209
209 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہماری قوم کے بھی نہ تھے۔مگر پھر حضرت میرزا صاحب کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے جس کا میں دل سے خواہاں تھا۔میں نے اپنے دل میں مقرر کر لیا کہ اسی نیک مرد سے اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کر دوں۔نیز مجھے دتی کے لوگ اور وہاں کی عادات واطوار بالکل نا پسند تھے اور وہاں کے رسم ورواج سے سخت بیزار تھا۔۱۶ ان دونوں بیانوں سے معلوم ہوتا ہے۔حضرت اُم المؤمنین کی اماں اور ابا کے دلوں میں الگ الگ قسم کے خیالات تھے اور الگ الگ قسم کے موانع۔حضرت میر صاحب کے دل میں تین روکیں تھیں۔ا۔عمر کا فرق ۲۔پہلی شادی اور اولاد ۳۔قوم کا فرق نانی اماں کو پہلی روک یہ تھی کہ اول تو ان کا دل نہیں مانتا تھا۔دوسرے عمر کا بہت فرق تھا۔تیسرے دلّی والوں میں پنجابیوں کے خلاف سخت تعصب تھا۔ان موانع کے باوجود ایک چیز تھی جو اندر ہی اندر کام کر رہی تھی اور وہ حضرت میر صاحب کا یہ جذبہ تھا کہ ان کا داماد نیک اور صالح ہو۔یہ ایک اعلیٰ مقصد تھا جس کے پیمانہ پر کوئی پورا نہ اترتا تھا۔درخواستیں کرنے والے لوگ اچھے متمول تھے۔مگر نیک اور صالح نہ تھے۔حضرت میر صاحب کو دتی کے لوگوں کے عادات اور اطوار سے سخت نفرت تھی۔اس لئے وہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ میرا مربی ومحسن مجھے کوئی نیک اور صالح داماد عطا فرمائے۔یہ دعا میں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی اور آخر قبول ہوئی۔آنحضرت ﷺ نے بیوی کے متعلق فرمایا کہ لوگ مال اور حسن کے لئے شادی کرتے ہیں۔مگر آپ نے فرمایا۔خُذ بِذَاتِ الدِّين تم دیندار عورت سے شادی کرو۔بالکل اسی اصل کے ماتحت حضرت میر صاحب اپنی صاحبزادی کے لئے دیندار خاوند کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے تھے اور خدا تعالیٰ سے رشتہ مانگا کرتے تھے۔سوان دعاؤں کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت میر صاحب کو وہ کچھ دے دیا جو انہوں نے مانگا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس وقت روئے زمین پر ایک ہی انسان تھا جو نیکیوں کا سردار اور