سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 204
204 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور بھی ایک اہل تقدیر تھی جو انسانی منصوبوں سے ٹل نہیں سکتی تھی۔اس ظہور کی بڑی غرض یہ تھی کہ خدا تعالیٰ جس نے دنیا سے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔وہ ایک دفعہ پھر اپنا روئے منور دنیا پر ظاہر کرے۔وہ چاہتا تھا کہ ایک سورج کی طرح اپنی کرنیں ایک دفعہ پھر تاریک دنیا پر ڈال کر زندگی ، روشنی ، نور اور معرفت و حیات کا عالم پیدا کرے۔وہ دنیا کو اس مادی اور دہریت کے زمانہ میں ایک دفعہ پھر اپنے کلام سے مست و دیوانہ بنانا چاہتا تھا۔اس نے ایک دفعہ پھر چاہا کہ وادی غیر ذی زرع کی روحانیت کو دنیا پر آشکارا کرے۔اس نے ایک دفعہ پھر چاہا کہ وہ ابراہیم و موسی و عیسٹی کے نظارہ سے زمین کو آسمان کی ہم پلہ بنادے اس نے چاہا کہ ایک دفعہ پھر گنگا کی وادی میں محبت کی بنسری بجانے والا کرشن بھیج کر دنیا کو مست و بیخود بنا دے۔یہ اٹل اور بالکل اہل ارادہ تھا۔جس نے اس محبوب و دلربا و دلنواز کو دنیا میں بھیجا۔بالکل وہی اہل نقد ی تھی اور اس مالک الکل کی تقدیر تھی کہ اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ اپنے اس محبوب اور پیارے کے لئے ایک اور شادی کا انتظام کرے۔اس الہام میں دوسرا فقرہ ایک اور شادی کروں، کا ہے۔جو قابل غور ہے۔ایک اور “ کا لفظ اسی جگہ بولا جاتا ہے۔جہاں پہلی چیز کافی نہ ہو یا اس ضرورت کو پوری نہ کرتی ہو۔جس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کوئی چیز وضع کی گئی تھی یہی دنیا کا دستور ہے۔الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں ایک اور کا لفظ اسی وقت بولا جاتا ہے۔جبکہ پہلی چیز کافی نہ ہو۔بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بیوی پہلے سے موجود تھیں مگر جن اغراض و مقاصد کو لیکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں مبعوث کئے گئے تھے۔ان مقاصد کے بوجھ اور ان ذمہ داریوں کی وہ بیوی متحمل نہ ہو سکتی تھیں۔جیسے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ منشاء الہی تھا کہ : ا۔ایک آسمانی روح والالڑ کا پیدا کیا جائے۔اور ایسی اولاد پیدا کرے۔جوان نوروں کو تمام دنیا میں پھیلا دے۔۔اور اس خاندان کے ذریعہ تمام دنیا کی مدد کی جائے۔ان امور کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بین فرق رکھ دیا اور وہ فرق وحی الہی نے یوں بیان فرمایا: