سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 142
142 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہی چند روز میں گم ہو جاتے ہیں۔اسی طرح چند روز میں یہ غل غپاڑہ فرو ہو جائے گا اور مرزا صاحب کی صداقت کا سورج چمکتا ہوا نکل آوے گا۔پھر نیک بخت تو افسوس کر کے مرزا صاحب سے موافق ہو جاویں گے اور پچھلی غلطی پر پچھتاویں گے اور مرزا صاحب کی کشتی میں جو مثل سفینہ نوح علیہ السلام کے ہے سوار ہو جائیں گے۔لیکن بد نصیب اپنے مولویوں کے مکر اور غلط بیانی کے پہاڑوں پر چڑھ کر جان بچانا چاہیں گے۔مگر ایک ہی موج میں غرق بحر ضلالت ہو کر فنا ہو جاویں گے۔یا الہی ہمیں اپنی پناہ میں رکھ اور فہم کامل عنایت فرما۔امت محمدی کا تو ہی نگہبان ہے۔حجابوں کو اٹھا دے۔صداقت کو ظاہر فرمادے۔مسلمانوں کو اختلاف سے راہِ راست پر لگا دے۔آمین یا رب العلمین۔الـعـلــم حجاب الاکبر جو مشہور قول ہے اس کی صداقت آج کل بخوبی ظاہر ہو رہی ہے۔پہلے اس قول سے مجھے اتفاق نہ تھا لیکن اب اس پر پورا یقین ہو گیا۔جس قدر مرز اصاحب کے مخالف مولوی ہیں اس قدرا اور کوئی نہیں بلکہ اوروں کو عالموں ہی نے بہکایا ہے۔ورنہ آج تک ہزاروں بیعت کر لیتے اور ایک جم غفیر مرزا صاحب کے ساتھ ہو جاتا۔لیکن مخالفت کا ہونا کچھ تعجب نہیں کیونکہ اگر ایسا زمانہ جس میں اس قسم کے فساد ہیں جس کی نظیر پچھلی صدیوں میں نامعلوم ہے۔نہ آتا۔تو ایسا مصلح بھی کیوں پیدا ہوتا۔دجال ہی کے قتل کو عیسی تشریف لائے ہیں۔اگر دجال نہ ہوتا تو عیسی کا آنا محال تھا اور دنیا گمراہ نہ ہو جاتی تو مہدی کی کیا ضرورت تھی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کام کو اس کے وقت پر کرتا ہے۔یا اللہ ! تو ہمیں اپنے رسول کی ، اپنے اولیاء کی محبت عنایت کر اور بے یقینی اور ترددات سے امان بخش، صادقین کے ساتھ ہمیں اُلفت دے، کا ذبوں سے پناہ میں رکھ۔ہماری انانیت دُور کر دے اور حرص وحواس سے نجات بخش۔آمین یا رب العلمین۔۱۴ حضرت میر صاحب سلسلہ کی خدمت میں حضرت میر صاحب قادیان آ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے تھے۔جیسے انہوں نے خود تحریر فرمایا ہے کہ: گویا میں اُن کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا۔خدمتگار تھا، انجنیئر تھا، مالی تھا، زمین کا مختار تھا، معاملہ وصول کیا کرتا تھا۔۱۴