سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 78
78 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس لئے آپ نے ایک صوفیانہ شطرنج ایجاد کیا۔جس میں بڑی پُر عبرت بازیاں رکھی گئیں تھیں۔ان بچوں اور مُریدوں کو جب یہ رسالہ دیا گیا کہ شطرنج کھیلتے ہوئے ان امور کوملحوظ رکھ لینا۔جب انہوں نے پڑھا تو انہوں نے شطرنج سے توبہ کر لی۔افسوس کہ غدر میں یہ چیز بھی ضائع ہو گئی۔سنتا ہوں کہ اس کی ایک کاپی حضرت میر ناصر نواب صاحب کے سوتیلے بھائی سید ناصر وزیر کے پاس تھی معلوم نہیں کہ اب تک ہے یا نہیں۔ان کے ایک پوتے زندہ ہیں۔جن کا نام سید ناصر جلیل ولد سید ناصر خلیل ولد سید ناصر وزیر ہے اور گلبرگہ میں ملازم ہیں۔افسوس کہ ان کے ہاں بھی اس رسالہ کا پتہ نہیں مل سکا۔ایجادات خواجہ محمد ناصر صاحب نے بہت سی چیزیں بھی ایجاد کی تھیں۔مثلاً خیمہ روان ، خانه روان ، حمام ہر مقام، پلنگ سفری شمع بید مع چراغ ظلمت، سوز فانوس بے افسوس، حربہ لوائے محمدی ، نصرت بخش کبیر ، نصرت بخش صغیر وغیرہ۔ان چیزوں کے نام و نشان کا پتہ کتاب نالہ عندلیب سے بخوبی ملتا ہے۔ان سے بہت سی کرامات اور خارق عادت باتیں بطور نشان کے ظاہر ہوئیں تا کہ لوگوں کے لئے از دیاد ایمان کا باعث ہوں۔آپ کا تخلص عند لیب تھا اور آپ فارسی زبان کے بڑے شاعر تھے۔حضرت خواجہ میر درد اس خاندان میں حضرت خواجہ میر درد ایک خاص بزرگ تھے۔خواجہ محمد ناصر صاحب کی دو بیویاں تھیں۔پہلی شادی حضرت شاہ میر بن سید لطف اللہ صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی۔ان کے بطن سے ایک صاحبزادے محمد محفوظ صاحب پیدا ہوئے اور انہیں سال کی عمر میں فوت ہو گئے ان کی والدہ محمد محفوظ سے قبل ان کو بچہ چھوڑ کر فوت ہوگئی تھیں۔آپ نے دوسری شادی سید العارفین سید محمد قادری بن نواب عظیم القدر میر احمد خان شہید کی صاحبزادی سے کی تھی۔ان کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے۔پہلے سید میر محمدی تھے۔دوسرے خواجہ میر درد۔تیسرے خواجہ محمد میر اثر۔سید میر محمدی صاحب نے بھی 19 سال کی عمر میں وفات پائی۔دوسرے درمیانی خواجہ میر درد اور خواجہ محمد میر اثر باقی رہے۔ان کی والدہ صاحبہ کا نامی بخش بیگم عرف منگا بیگم تھا۔حضرت خواجہ میر درد کی ولادت نوزدهم ذیقعدہ ۱۱۳۳ ہجری بروز سه شنبہ دہلی میں میر عمدہ