سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 77
77 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آپ کی وفات کے بعد بادشاہ دہلی نے آپ کا مقبرہ سنگ مرمر کا بنوانا چاہا مگر حضرت خواجہ میر درد صاحب نے منظور نہ کیا اور فرمایا: " إن تکلفات سے فقیروں کو کیا سروکار خواجہ میر اثر صاحب جو خواجہ محمد ناصر صاحب کے چھوٹے صاحبزادے تھے " نے اپنے والد بزرگوار کے حالات ایک منظوم کتاب میں لکھے ہیں۔جس کا نام بیان واقع ہے اس منظوم کلام کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔مندرجہ بالا حالات کا ماخذ بیان واقع اور بعض دوسری کتا بیں ہیں۔جس میں خود ناله عندلیب اور بیان درد، سوز درد، شمع محفل وغیرہ رسائل شامل ہیں۔خواجہ میر درد کے نزدیک خواجہ محمد ناصر کا مقام خواجہ میر در دصاحب نے اپنی کتاب علم الکتاب میں خواجہ محمد ناصر صاحب کے مقام کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے : نسبت خالص محمدیه که در زمان آن سرور علیہ السلام بود - تا حضرت امام حسنؓ عسکری علی جدہ علیہ السلام بطناً بعد بطن رسیده می آمد و بعد ازیں او باختفا آورده بود باز از بعد یک هزار و یک صد و چند سال هجری از یس فیض خاص از متبع باطن سید بحق و مقتدائے احق آفتاب عالم تاب فلک سیادت نیر اعظم پسر ولایت وارث منصب کمالات نبوت خلیفه مرتبه الوہیت صاحب سجادہ قرب امامت مظہر انوار محمدیہ صاحب شریعت واصلِ حقیقت واقف طریقت۔کاشف معرفت خداوند حکمت الہیہ۔حامی ملتِ مصطفویہ۔اولوالعزم عالی جاہ بے نیاز کبریاء۔دستگاه سلاله ورود جان نقشبندیہ و قادریہ - قدر افزائے طریقہ محمدیہ۔ناصر دین نبوی حضرت خواجہ محمد ناصر رضی اللہ عنہ ظہور فرمود“۔خواجہ محمد ناصر کی تصانیف خواجہ محمد ناصر صاحب کی کئی ایک تصانیف تھیں مگر افسوس غدر میں اکثر تلف ہوگئیں۔آپ نے ایک رسالہ ہوش افزا تصنیف کیا تھا۔یہ رسالہ صوفیانہ شطرنج بازی میں تھا۔کہتے ہیں آپ کے خاندان کے بعض نوجوان اور بعض مرید شطرنج کی طرف مائل ہو گئے تھے۔آپ نے ان کو منع کیا مگر وہ نہ رُکے۔