سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 76
76 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ یہی حال سائل کا تھا کہ ایک سوال کسی کے دل میں پیدا ہوا اور حضور نے فوراً ہی اس کا جواب خود بخو دا پنی تقریر میں دے دیا۔سچ ہے کہ حضور اقدس اس زمانے کے نیر اعظم تھے۔جن میں سب ستاروں کی روشنیاں گم تھیں۔حضرت خواجہ محمد ناصر کی وفات آپ کی وفات ۲ شعبان ۲ ۱۱۷ ہجری کو ہفتہ کے دن ہوئی۔بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ کی لاش کو قبرستان میں لایا گیا۔حضرت خواجہ میر درد صاحب نے کشفی حالت میں دیکھا کہ آنحضرت یہ بھی تشریف فرما ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم خواجہ محمد ناصر کے جنازہ کے انتظار میں ہیں اور جب تک خواجہ صاحب کو دفن نہیں کیا گیا حضور کھڑے رہے۔حضرت خواجہ میر درد نے جس جگہ حضور پر نور کو دیکھا تھا وہاں ایک سنگِ سرخ کا نشان لگوا دیا تھا۔اس پتھر پر یہ رباعی کنند و تھی۔ایس ارضِ مقدس است بس پاک بود رشک عرش نجوم و افلاک بود از بس زکرم داشته تشریف شریف نقش قدم صاحب لولاک آپ کے مزار کا کتبہ آپ کے مزار پر حسب ذیل کتبہ لگا ہوا ہے: محبوب خدا خواجہ محمد ناصر بود حق راه نما خواجہ محمد ناصر بادی و شفیع و دستگیر همه است درد ہر دوسرا خواجہ محمد ناصر ناصر الملت والدین امیر امحمد بین الخالصین محمدی المتخلص بہ عندلیب۔علیہ التحیات به ولادت ۲۵ شعبان۔ع۔وارث علم اما مین سے علی رحلت۔یوم شنبه بعد العصر - قرب شام دوم ماه شعبان ۱۷۲ ہجری۔عمر شریف ۶۶ سال