سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 75 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 75

75 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خادم سے کہا۔بازار سے تربوز لاؤ۔ہمارے مہمان گرمی میں آئے ہیں اس سے کچھ تسکین ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول یہ تھا کہ وہ اپنے مہمانوں کو ساتھ لیکر کھانا کھایا کرتے تھے۔آپ کے قلب کی صفائی کا حال تھا کہ آپ کے پاس بیٹھنے والے مریدین مخلصین کے دل میں کوئی بات آتی آپ فوراً اسے پورا کر دیتے۔مثلاً کھانا کھاتے ہوئے کسی کے دل میں یہ خیال آتا کہ فلاں چیز مل جائے تو حضرت فوراً ہی بغیر سوال کے لا دیتے۔مثلاً منشی عبد العزیز صاحب پٹواری جو ہمارے ہمسائے ہیں اور حضور کے پرانے صحابی کی ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ میرے دل میں شہتوت کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔حضرت اس دن سیر کو اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔باغ میں سے شہتوت تڑوا کر ٹوکرے بھروائے۔دوستوں کو کھانے کے لئے فرمایا۔خود بھی کھانے لگے اور مجھے بار بار فرماتے۔منشی صاحب ! اچھی طرح کھاؤ۔منشی صاحب کا بیان ہے کہ مجھے کچھ شرمندگی سی ہونے لگی کہ کہیں حضرت کو میری خواہش کا علم تو نہیں ہو گیا۔اسی طرح انہی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس ایک مقدمہ کے دوران میں گورداسپور گئے ہوئے تھے۔حضرت کو کسی نے دودھ پیش کیا۔بہت سے لوگ ارد گرد تھے اور میں فاصلے پر تھا میرے دل میں آپ کا تبرک پینے کا خیال آیا۔مگر ساتھ ہی خیال آیا کہ مجھے کیسے مل سکتا ہے۔حضرت نے دودھ پی کر باقی برتن میری طرف بڑھا کر کہا کہ لومنشی صاحب پی لو۔اس طرح میں آپ کے تبرک کی نعمت سے مالا مال ہو گیا۔ایسے صد ہا واقعات ہیں۔ایک دوست نے ایک روایت میں لکھا کہ ایک دفعہ کھانے میں بیٹرے پک کر آئے۔حضرت نے بعض دوستوں کو کھانے کو دیے۔میرے دل میں بھی بٹیر کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔خیال کا آنا تھا کہ حضرت نے اپنی تھالی سے بیٹر اٹھا کر میری تھالی میں رکھ دیا۔* * نوٹ : یہ روایات میں نے اپنے حافظہ کی بناء پر لکھی ہیں۔اس لئے مفہوم تو درست ہے۔الفاظ میرے اپنے ہی ہیں۔اصل الفاظ نہیں ہیں۔( محمود احمد عرفانی )