سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 74 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 74

74 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بصیرت سے حصہ ملا ہے وہ اس مقارنہ اور موازنہ سے اپنے ایمان میں ایک نئی لذت محسوس کرے گا۔یہ قدرت الہی کے نوشتے ہیں جو پورے ہو کر رہے۔کس انسان کی طاقت تھی کہ وہ ان چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق بنالے۔اگر یہ انسانی تدابیر اور ہوشیاریوں کا نتیجہ ہے تو چاہئے کہ کوئی اور شخص بھی اس میدان میں قدم رکھ کر دنیا کو جو حیرت بنائے۔مگر نہیں ! نہیں !! ایسا نہیں ہوسکتا۔یہ انسانی مکر ودجل کا کام نہیں یہ خدا کی عین منشاء کے ماتحت ہونے والے امور ہیں جو پورے ہوئے۔اے سچائی کے طالبو! آؤ دیکھو کہ ہم تمہارے سامنے ایک سچائی کا چمکتا ہوا سورج رکھتے ہیں اگر تم روشنی سے پیار کرتے ہو تو دیکھو که نیر بیضا اپنی پوری تجلی سے چمک رہا ہے۔خواجہ محمد ناصر صاحب کی روشن ضمیری ایک قصہ جو خاندانِ خواجہ محمد ناصر صاحب میں مشہور ہے۔اس کا بھی تذکرہ کر دینا کوئی بیجا نہ ہوگا۔کہتے ہیں کہ ایک سیاح صاحب آئے اور وہ مولانا محمد فخر الدین صاحب کے ہاں مہمان ہوئے اُس سیاح نے کہا کہ یا حضرت آپ کو تو میں نے چشتیہ نظامیہ طریقہ کا آفتاب پایا ہے۔کیا یہاں کوئی نقشبند یہ طریقہ کا بھی کوئی کامل فقیر ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہاں ہے ان کا نام خواجہ محمد ناصر ہے اور وہ اس طریقہ کے یکتا درویش ہیں۔سیاح نے آپ سے ملنے کی خواہش کی۔مولانا نے ساتھ چل کر ملا نا منظور فرمالیا۔وہ وقت دو پہر کا تھا۔اس وقت حضرت خواجہ صاحب کا دستر خوان بچھا کرتا تھا اور جو مہمان آتا اسے الگ دستر خوان بچھا کر کھانا کھلایا کرتے تھے۔اپنے ساتھ نہیں کھلایا کرتے تھے۔مولا نافخر الدین نے فرمایا کہ ان کا یہ معمول ہے۔کہیں آپ کو برا نہ معلوم ہو۔سیاح نے کہا کہ میں ان کی روشن ضمیری کے امتحان کے لئے جار ہا ہوں۔میں نے اپنے دل میں دو خواہشیں سوچ رکھی ہیں اگر وہ صاحب باطن ہوں گے تو دونوں خواہشوں کو پورا کر دیں گے۔مولانا فخر الدین صاحب نے پوچھا کہ وہ کیا خواہشات ہیں؟ سیاح نے کہا کہ ایک تو یہ کہ وہ مجھے اپنے ساتھ کھلا ئیں اور دوسرے مجھے ایک تربوز بھی کھلائیں۔چنانچہ جب حضرت مولانا فخر الدین صاحب سیاح کولیکر آپ کی بارہ دری میں آئے۔تو آپ کھانا کھا رہے تھے۔خواجہ صاحب نے مولانا فخر الدین صاحب کے لئے اپنے کندھے کی چادر اتار کر بچھا دی کہ اس پر تشریف رکھیں اور سیاح صاحب کو زبردستی اپنے ساتھ کھانے میں شریک کر لیا اور ایک