سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 61 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 61

61 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کوچے کا واقف نہیں۔اسے یہ باتیں جنسی اور کھیل سے زیادہ نہ معلوم ہوں گی وہ ان لوگوں کی دماغی کیفیت کو ایک مجنون کی دماغی کیفیت سے ملانے میں دریغ نہ کرے گا۔لیکن اسے کیا معلوم۔کہ اس رنگین دنیا کے سوا ایک اور دنیا بھی ہے جو اسی دنیا میں پوشیدہ ہے اور اس جسم میں ایک اور جسم بھی ہے۔جو اسی جسم میں پوشیدہ ہے۔اس جسم کی آنکھیں بھی ہیں۔جو اس وقت دیکھتی ہیں۔جب یہ آ نکھیں بند ہو جاتی ہیں اس کے کان بھی ہیں جو اس وقت سنتے ہیں۔جب یہ کان بند ہو جاتے ہیں۔اسی لئے متصوفین کے نزدیک ایک اصطلاح یہ بھی ہے لب بند و گوش بند و ہوش بند۔میں اپنے ذوق کی لہروں میں کہاں سے کہاں چلا گیا میں تو یہ لکھ رہا تھا کہ اس روحانی عالم میں امام حسن کی روح کا ظہور بھی ایک حقیقت ہے۔روشنی سے کمرہ منور ہو گیا یہ بھی ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ کس سے پوشیدہ ہے۔جب وہ جنگل میں اپنے اہل کو لیکر آ رہے تھے انہوں نے پہاڑ پر ایک آگ کو دیکھا۔تو فرمایا۔هُدًى فَقَالَ لِاهْلِهِ امُكْنُوا إِنّى أنَسُتُ نَارُ العَلَّى اتِيُكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ تم لوگ یہاں ٹھہر جاؤ۔مجھے آگ نظر پڑی ہے۔میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی چنگاری لا سکوں۔یا مجھے وہاں سے آگ کا ہی کچھ پیل سکے۔پس یہ حقیقت ہے کہ عالم بالا کا روشنی کے ساتھ ایک بڑا تعلق ہے اور وہ اس سورج یا چاند یا ستاروں یا دوسری قسم کی روشنیوں کی مدد کا محتاج نہیں جب کسی انسان کو اس عالم میں لے جایا جاتا ہے۔تو اسے روشنی ہی روشنی نظر آتی ہے۔کیونکہ وہاں تاریکی کا کوئی مقام نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کشف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ایسے بہت سے پاکیزہ مکاشفات دکھائے گئے۔چنانچہ ایک واقعہ جو آپ نے تحریر فرمایا یوں ہے :