سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 59
59 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ رُوح کو خلود حاصل ہے اور جسم کو فتا۔روح دنیا اور اس کے آخری کونوں تک دیکھ سکتی ہے اورسُن سکتی ہے۔اس کی رسائی دنیا کے کناروں اور آسمانوں تک ہوسکتی ہے۔مگر انسان نے اسے کبھی چھوا تک نہیں اور اس کی طرف کبھی توجہ تک نہیں کی۔الا ماشاء اللہ۔لیکن صوفیائے کرام نے مختلف طریقوں سے جسم کو کمزور کیا اور روح کو نشو نما دی تا کہ وہ ان بندھنوں سے آزاد ہو کر اپنا کام کر سکے۔وہ ایک طرف تو جسم کو کم کھانے اور روزوں کے ذریعے کمزور کرتے۔دوسری طرف عبادت وریاضت سے روح کو قوت پہنچاتے تھے۔چنانچہ اس اصل کے ماتحت حضرت خواجہ میر ناصر نے اس جسم کو جس کا گوشت پوست سلطنت و حکومت کے نشہ اور مال و دولت سے پرورش شدہ تھا۔خوب ہی عبادتوں و ریاضتوں کے ذریعے سے ہلاک و فنا کر دیا۔تب الہی تجلی کا ظہور حضرت امام حسنؓ کے رنگ میں ان پر ہوا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے جمال کا پر توہ انہی کے بزرگوں کے رنگ میں ڈالا کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کو اپنے والد کی صورت پر دیکھا۔اس لئے حضرت امام حسنؓ کی شکل وصورت پر تجلی الہی کا ہونا کوئی بعید از قیاس امر نہیں اور وہ لوگ جو اس دنیا سے منقطع ہو جاتے ہیں۔ان کو عالم بالا کے صد ہا عجائبات دکھائے جاتے ہیں۔جن کو وہ لوگ جو اہل بصیرت نہیں ہوتے نہیں سمجھ سکتے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے کلام پاک میں ائمی قرار دیا ہے۔اس لئے کہ ان کی وہ آنکھ نہیں ہوتی جس سے وہ اس ٹور میں دیکھ سکیں ان کی تمام حسیں مردہ ہوتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ جو حواس خمسہ سے بے بہرہ ہو، اسے دنیا کی حقیقت کیا معلوم وہ ایک مُردہ لاش ہے جو گڑھے میں پھینک دی جائے گی۔بالکل اسی طرح وہ لوگ جن کی روحانی حستیں مفقود ہو جاتی ہیں۔وہ عالم روحانیت میں مُردہ لاش کی طرح تصور کئے جاتے ہیں۔کروڑوں کروڑ انسان ایسے ہیں۔جن کو ماؤں نے تو جن دیا مگر وہ عالم روحانیت میں کبھی پیدا نہیں ہوئے اور وہ اسی طرح مُردہ کے مُردہ ہی اس جہان سے اُٹھ جاتے ہیں۔انبیاء کا وجود اس لئے دنیا میں آتا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک دوسری دنیا سے آگاہ کریں۔جو عالم روحانیت کی