سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 656
656 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ انجام قابل رشک ہے۔خدا تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو اپنے قرب میں خاص مقام عطا کرے۔یہ آخری تحفہ ہے جو ہم پیش کر سکتے ہیں اور انا لله وانا اليه راجعون کا پھایا اپنے قلوب پر رکھ کر امید رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے جن گرانقدر وجودوں کو اپنی مصلحت کے ماتحت اپنے پاس بلا رہا ہے۔ان کے قدموں پر چلنے والے اور وجو د عطا کرے گا۔حضرت نواب محمد علی خاں رضی اللہ عنہ کی تجہیز وتدفین قادیان ۱۱ فروری: حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ ایک لمبی علالت کے بعد کل انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون - آپ اگست ۱۹۴۴ ء سے علیل چلے آتے تھے اور پیشاب میں خون آنے کی تکلیف تھی جس کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکے تھے۔مگر آخر وقت تک ہوش و حواس بالکل درست رہے۔اگر چہ آخر دوروز زیادہ بول نہ سکتے تھے۔وفات کی خبر ملتے ہی قادیان کے مرد اور خواتین حضرت نواب صاحب کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بھی تشریف لے گئے اور رات کے گیارہ بجے تک وہیں رہے۔آج صبح سے احباب جماعت کے علاوہ سکھ اور ہند و اصحاب بھی بکثرت آتے رہے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ بھی بارہ بجے کے قریب تشریف لے گئے چونکہ دو پہر کی گاڑی سے بیرون جات سے بعض اعزہ کے آنے کی امید تھی اس لئے جنازہ کوٹھی سے لے جانے کے لئے تین بجے بعد دو پہر کا وقت مقرر تھا۔اس ثناء میں کوٹھی کے اندر ہزاروں خواتین نے مرحوم کی آخری زیارت کی۔دو پہر کی گاڑی سے مرحوم کے بعض عزیز جن میں نواب زادہ خورشید علی خان صاحب خلف سرذ والفقار علی خان ، سرموصوف کی بیگم صاحبہ اور اس خاندان کی بعض دیگر خواتین تشریف لائیں۔نواب زادہ احسان علی خاں صاحب کئی روز پیشتر سے ہی جب سے کہ حضرت نواب صاحب کی طبیعت زیادہ کمزور ہو گئی تھی۔یہاں تشریف رکھتے تھے۔حضرت نواب صاحب کے فرزند اکبر نواب زادہ عبدالرحمن خاں صاحب بھی کئی روز سے یہاں تشریف فرما تھے۔نواب سرذ والفقار علی خاں صاحب کی صاحبزادی بیگم اعزاز رسول صاحب آف سندیلہ بھی کئی روز سے یہیں تھیں۔ان کے علاوہ لاہور ، امرتسر، کپورتھلہ ، جالندھر وغیرہ سے بعض احمدی احباب اور صاحبزادگان خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بھی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے پہنچ گئے۔تین