سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 655 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 655

655 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں یہ قدر و منزلت ہو اس کی کوئی عام انسان کیونکر اصل شان بیان کرسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے آپ کو وہ مرتبہ اور وہ شان عطا کی جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوسکتی۔آپ کی نیکی ، اخلاص تقوی طہارت اور پاکبازی کو خدا تعالیٰ نے ایسے انعامات سے نوازا جو قیامت تک کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ میں بڑے بڑے رؤسا نواب، والیان ریاست اور ملکوں کے بادشاہ داخل ہوں گے اور یقیناً داخل ہوں گے۔مگر کسی کو وہ رتبہ کہاں حاصل ہو سکتا ہے جو حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو ہوا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہنے کا سالہا سال تک شرف حاصل کیا اور آپ کے مقرب صحابی بنے۔آپ نے دین کی خاطر اپنے اموال بے دریغ صرف کئے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے حجتہ اللہ کا خطاب بخشا اور آپ نے اپنے عملی نمونہ سے اپنے آپ کو اس خطاب کا پورا پورا اہل ثابت کیا۔آپ کی تعریف وتوصیف جن الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی وہ کسی اور کو کب میسر آ سکتے ہیں۔پھر آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دامادی کا جو شرف حاصل ہوا اور حضور کے جگر گوشہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا مبارک وجود آپ کے کاشانہ کی رونق بنا۔یہ کتنا بڑا انعام ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح آپ کے نہایت نیک اور پارسا صاحبزادہ مکرم خان محمد عبد اللہ خاں صاحب سے ہوا اور یہ خاتون مبارکہ بھی آپ ہی کے خاندان کی زینت بنیں۔غرض خدا تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب رضی اللہ عنہ پر جس قدر انعامات کئے وہ نہایت غیر معمولی اور بے مثال ہیں اور آج جب کہ آپ اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے خالق و مالک کے حضور پہنچ گئے ہیں ثابت ہو گیا کہ آپ ان غیر معمولی انعامات کے پورے پورے مستحق اور اہل تھے۔آپ دسمبر ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر کے قادیان تشریف لائے اور پھر صبر ، استقلال، فدا کاری اور جان شاری کی یہ مثال قائم کی کہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اپنے مال کا بہت بڑا حصہ خدا تعالیٰ کے لئے اس کی مخلوق کی ہدایت اور اس کی پرورش کے لئے خرچ کر دیا۔حتی کہ آخری سانس تک اسی پاک سرز مین میں لیا جہاں خدا تعالیٰ کی خاطر شاہانہ شان و شوکت چھوڑ کر انہوں نے دھونی رمائی تھی جس طرح آپ کی جوانی قابل رشک تھی جس طرح آپ کی آخری وقت تک کی زندگی قابل رشک تھی۔اس سے بھی بڑھ کر آپ کا