سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 649 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 649

649 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ الحمد للہ کہ آج وہ دن ہے جس روز میرا نکاح حضرت کی بڑی صاحبزادی مبارکہ بیگم صاحبہ سے بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں بالعوض ۵۶ ہزار روپیہ ہو گیا۔یہ وہ فضل اور احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ اگر میں اپنی پیشانی کو شکر کے سجدے کرتے کرتے گھسا دوں تو بھی خداوند کے شکر سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔میرے جیسا نا بکار اور اس کے ساتھ یہ نوریہ خدا وند تعالیٰ کا خاص رحم اور فضل ہے اے خدا، اے میرے پیارے مولیٰ جب تو نے اپنے مرسل کا مجھ کو داماد بنایا ہے اور اس کے لخت جگر سے میرا تعلق کیا ہے تو مجھ کو بھی نور بنا دے تا کہ اس کے قابل ہوسکوں۔ان الفاظ کو پڑھو اور بار بار پڑھو کہ ان میں حضرت نواب صاحب کے اس عقیدہ کا اظہار ہے جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق رکھتے تھے اس سے اس مقام کا پتہ لگتا ہے جو حضرت نواب صاحب کے دل میں حضرت سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا تھا۔اس سے اس تڑپ اور اضطراب کا پتہ لگتا ہے جو آپ کو اپنی روحانی ترقی اور سراسر نور بن جانے کے لئے دعا کا تھا۔ایسے موقعہ پر عام طور پر لوگوں کے خیالات اور ان کی آرزؤں کا کیا رنگ ہوتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی سے پاک کئے ہوئے انسان کی نظر کدھر اُٹھتی ہے وہ سارے جوشوں اور امنگوں کو قربان کر کے خدا کا ہو جانا چاہتا ہے اور خدا نے اس کی پکار کو سنا اور اسے چن لیا۔ولله الحمد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زندگی میں نکاح کر دیا اور رخصتانہ آپ کی وفات کے بعد ۱۴ مارچ ۱۹۰۹ ء کو خلافت اولیٰ کے زمانے میں ہوا۔رخصتانہ کے متعلق میں اپنی طرف سے کچھ بھی لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا گو میں عینی شاہد ہوں اور اس وقت بھی وہ سب نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے میں خود حضرت نواب صاحب کی ڈائری درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔یہ آپ کی ذاتی اور بظاہر روز کی چیز ہے مگر اس کے پڑھنے سے ایمان بڑھتا ہے اور خود حضرت نواب صاحب کی نسبت معرفت میں اضافہ ہوتا ہے آپ لکھتے ہیں۔