سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 648 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 648

648 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خاندان کے افراد کے وہاں رہے اور تمام اخراجات بانشراح صدر آپ نے برداشت کئے۔پھر ایک اور موقعہ پر ان کو طلب کیا مگر حضرت اقدس بعض وقتی حالات اور مجبور بوں کی وجہ سے نہ بھیج سکے۔ایک نہ ایک عالم دین کو اپنے پاس رکھتے اور رب زدنی علما کی دعا کے موافق جوش رکھتے۔چنانچہ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب زمانہ دراز تک آپ کے پاس رہے۔مرحوم بے انتہا خوبیوں کے مالک تھے اور ان خصوصیات نے ہی ان کو اس مقام پر پہنچایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دامادی کا فخر نصیب ہوا اور وہ کشف پورا ہوا جس کا میں ذکر کر آیا ہوں۔شادی کی تقریب جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے حضرت نواب صاحب صاحب اولاد تھے اور پہلی بیوی کی وفات پر دوسری شادی بھی آپ نے کر لی تھی۔مگر قیام قادیان میں یکا یک آپ کی اہلیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے موافق فوت ہو گئی رضی اللہ عنہا۔اور کچھ عرصہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم مدظلہا کیلئے آپ نے رشتہ بھجوایا جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے منظور فرمالیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کی بے انتہا دعاؤں کے ساتھ یہ نکاح ہو گیا۔حضرت خلیفہ اول نے خطبہ نکاح پڑھا اور ۵۶ ہزار مہر مقرر ہوا اور اس مہر کی ایک دستاویز تحریر ہوئی۔بہ ظاہر یہ بڑی رقم ہے مگر حضرت سیدہ کے مقام اور شان کے لحاظ سے حضرت اقدس نے یہ رقم تجویز فرمائی اور میں تو اسے خفی وحی کا نتیجہ سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ہے کہ خاکسار عرفانی کبیر کو اس دستاویز کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور الحمدللہ وہ حسب دلخواہ ہوگئی اور اس دستاویز پر اس کے دستخط بطور گواہ بھی ہیں۔حضرت نواب صاحب پر اس تعلق کا کیا اثر تھا ان کی زبان سے سنو : ڈائری نویسی حضرت نواب صاحب کو یہ شوق تھا کہ بعض اہم امور کو اپنی ڈائری میں لکھا کرتے تھے جو ہر سال نئی خریدی جاتی تھی چنانچہ ۷ افروری ۱۹۰۸ء بروز دوشنبہ کی ڈائری میں کہتے ہیں: