سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 647
647 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حوصلہ اور مستقل مزاج بزرگ تھے اپنے مقام و مرتبہ کے باوجودطبیعت نہایت منکسرانہ واقع ہوئی تھی مسجد میں آتے تو بار ہا جوتیوں کی جگہ جانماز بچھا کر بیٹھ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو قادیان میں قیام کے لئے تحریک فرمائی اور آپ نے تعمیل کی یہاں تک کہ آپ ہجرت کر کے آہی گئے۔ایثار نفس طبیعت میں فطرتی سخاوت کا جوش تھا اور بسا اوقات وہ اپنی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورتوں کو مقدم کر لیتے تھے۔میں ان واقعات کا شاہد ہوں جماعت کے غربا ان کی فیاضیوں سے آسودگی کی زندگی بسر کرتے تھے۔اس قسم کی فیاضیوں نے ان کی مالی حالت پر بڑا اثر ڈالا مگر وہ ہر حالت میں مستقیم الاحوال رہے۔میں نے کبھی ان کو غم زدہ اور فکرمند نہ پایا ہمیشہ چہرہ پر خوشی اور مسرت کھیلتی تھی اور اللہ تعالیٰ پر اس قدر تو کل اور بھروسہ تھا کہ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ انہوں نے سفر کا ارادہ کر لیا اور کچھ ہاتھ میں نہیں مگر آخر وقت پر اللہ تعالیٰ نے عجیب عجیب رنگوں میں سامان کر دیا۔سلسلہ کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے اخراجات اپنی ڈائریکٹری کے زمانہ میں ایک عرصہ تک چلاتے رہے اور جب حضرت اقدس نے خود محسوس فرمایا کہ مالی ابتلا نہ آ جائے تو انتظام دوسرے ہاتھوں میں منتقل کر دیا۔صدر انجمن کے کاموں میں اپنی رائے پر مستقل رہتے تھے۔خاکسار عرفانی اسٹنٹ سیکرٹری عملاً سیکرٹری ہی کے فرائض ادا کر رہا تھا۔اس کی ضروریات کا اہتمام اپنی جیب سے کرتے انجمن سے مجھے کچھ بھی اس خدمت کے لئے لینے کی ضرورت نہ آنے دی۔میرے ساتھ جو تعلقات تھے اور میں نے جس قدر قریب سے انہیں پڑھا ہے اس کا تفصیلی ذکر خدا نے چاہا تو حیات نواب محمد علی خان میں ہوگا۔وبالله التوفيق فتنہ کے وقت آپ نے اپنی خدمات پیش کیں۔خاکسار عرفانی اور مرحوم خان بہادر شیخ محمد حسین صاحب پنشنر سب حج کے سپر د ایک خاص خدمت تھی اس سفر کے کل اخراجات نواب صاحب نے اپنی جیب سے برداشت کئے اور یو۔پی کی سخت گرمی میں اپنے اس دورہ کو پورا کیا اس دورہ کی رپورٹ سلسلہ کی تاریخ میں ایک قیمتی دستاویز ہے۔علم دین کا شوق اس قدر غالب تھا کہ ایک زمانہ میں حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ کو مالیر کوٹلہ بلا کر اپنے پاس رکھا۔حضرت حکیم الامت مع اپنے شاگردوں اور