سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 53 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 53

53 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جلوت پر خلوت کو پسند کروں ! اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی شہرت و عظمت کے طلبگار نہ تھے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق صافی رکھتے تھے۔یہ امر واقعہ ہے کہ آپ کو گوشہ گزینی سے اس قدر محبت تھی کہ آپ کبھی جلوت میں نہ آتے اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل مد نظر نہ ہوتی چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا: اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے۔کہ خلوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے۔تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں۔مجھے تو کشاں کشاں میدانِ عالم میں انہوں نے نکالا ہے۔جو لذت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے۔میں قریباً ۲۵ سال تک خلوت میں بیٹھا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا۔کہ دربار شہرت کی کرسی پر بیٹھوں۔مجھے طبعا اس سے کراہت رہی کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں۔مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔فرمایا میں جو باہر بیٹھتا ہوں یا سیر کرنے کو جاتا ہوں اور لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے امر کی تعمیل کی بناء پر ہے، لے بالکل اسی طرح جب نواب فتح الله خان اور روشن الدولہ نواب ظفر خان فوت ہو گئے خواجہ محمد ناصر صاحب نے وجاہت دنیا کو لات ماردی فور آبادشاہ محمد شاہ کے پاس جا کر استعفیٰ دے دیا۔بادشاہ نے بہت منع کیا اور سمجھایا۔مگر آپ نے یہی کہا کہ مجھے معاف کیا جائے میں اب یہ خدمت سرانجام نہیں دے سکتا۔الغرض اس نام و نمود اس منصب و جاہ اس دولت و حشمت کو۔اس سلام وقلق کو، ان حکومت کی رنگینیوں کو یکدم چھوڑ کر نواب خواجہ محمد ناصر گھر کو آئے۔دوسرا دور اب پھر اس خاندان کی زندگی پیچھے کی طرف لوٹی۔درویشی کو حکومت پر فتح ہوئی۔خواجہ سید محمد ناصر صاحب نے گھر میں جو کچھ زر و جواہر تھا سب خدا کے راستے پر لٹا دیا اور فقیر ہو گئے۔محلات کو چھوڑا اور بیوی بچوں کو لے کر ایک کھنڈر میں آکر عزلت گزین ہو گئے۔