سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 646
646 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پیدا ہوئے اور آپ نے بلا خوف لومة لائم حضرت کی خدمت میں عریضہ لکھا۔حضرت اقدس نے اسے نا پسند نہ فرمایا بلکہ بہت خوش ہوئے چنانچہ اس کے جواب میں تحریر فرمایا: آپ کا محبت نامہ عین انتظار میں مجھ کو ملا جس کو میں نے تعظیم سے دیکھا اور ہمدردی اور اخلاص کے جوش سے حرف حرف پڑھا۔میری نظر میں طلب ثبوت اور استكشاف حق کا طریقہ کوئی نا جائز اور نا گوار طریقہ نہیں ہے بلکہ سعیدوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ورطه مذبذبات سے نجات پانے کے لئے حل مشکلات چاہتے ہیں۔لہذا یہ عاجز آپ کے اس طلب ثبوت سے ناخوش نہیں ہوا بلکہ نہایت خوش ہے کہ آپ میں سعادت کی وہ علامتیں دیکھتا ہوں جس سے آپ کی نسبت عرفانی ترقیات کی امید بڑھتی ہے“۔۵ یہ طریق مومنانہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو کوئی اعتراض پیدا ہو تو فوراً پیش کرنا چاہئے۔اس کے بعد آتھم کی پیشگوئی کے وقت بھی آپ کو ایک طالب صادق کی طرح کچھ استفسار کی ضرورت پیش آئی مگر جلد اللہ تعالیٰ نے آپ پر حقیقت کو منکشف کر دیا اور اس کے بعد کبھی کوئی موقعہ ایسا نہ آیا کہ آپ کو استفسار کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو عملی زندگی میں بعض باتیں آپ دریافت کر لیتے اور ان کو اپنا دستور العمل قرار دیتے۔حضرت نواب صاحب کی زندگی ایک راسخ الاعتقاد عملی مومن کی زندگی تھی۔وہ کوئی امر جس کی اسوہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نظیر نہ ہوا ختیار نہیں کرتے تھے اور عامل بالسنتہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں سرشار تھے اور آپ کے احکام کی اتباع اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔رشوت سے نفرت حضرت نواب صاحب کی زندگی میں ایک مرد مومن کی عملی زندگی کی تصویر ہے جب مالیر کوٹلہ ریلوے برانچ جاری ہوئی تو آپ نے اس لائن پر کچھ کام بطور ٹھیکہ لے لیا۔وہ کام دراصل آپ کے ایک خاص امتیاز کے اظہار کا موجب ہوا۔آپ سے چاہا گیا کہ ان انجنیئر وں یا افسروں کو جو اس کام کے پاس کرنے والے تھے کچھ روپیہ دے دیں آپ نے اسے رشوت قرار دیا اور صاف انکار کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو خطرناک مالی نقصان ہوا مگر آپ نے اس کی ذرا بھی پروانہ کی وہ نہایت عالی