سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 643
643 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سعادت کے فرشتے ساتھ تھے اس لئے اس کے بعد آپ نے کچھ عرصہ بعد بیعت کر لی۔نواب صاحب کی بیعت اکتوبر ۱۸۹۰ء کی ہے جیسا کہ ۱۹ اکتوبر ۱۸۹۰ء کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے ابتدأ نواب صاحب نے اخفائے بیعت کی اجازت لی تھی اور حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ: اس اخفا کو صرف اسی وقت تک رکھیں کہ جب تک کوئی اشد مصلحت در پیش ہو کیونکہ اخفا میں ایک قسم کا ضعف ہے اور نیز اظہار سے گویا قول نصیحت لخلق ہے“۔۲ نواب صاحب نے خود اپنی بیعت کے متعلق جو ذکر ایک خط میں کیا تھا وہ نواب صاحب کی فطرت سلیمہ پر ایک روشنی ڈالتا ہے اس کا اقتباس ذیل قابل غور ہے۔ابتداء میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤید نہیں ہیں بلکہ مخالفین اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں۔یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لود ہیا نہ ملنے گیا تو اس وقت میری تسکین خوب ہو گئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کا پھر بعد کی خط و کتابت میں میرے دل سے بکھی دھویا گیا اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسر شان نہ کرےسلسلہ بیعت میں داخل ہوسکتا ہے۔تب میں نے آپ سے بیعت کر لی۔اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پاتا ہوں اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے لئے تو بہ کی ہے۔مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ ایک سچے مجدد اور دنیا کے لئے رحمت ہیں“ سے اس خط سے نواب صاحب کی گناہ سوز فطرت کی بے قراری اور ایک عزم مبتلا نہ کا پتہ ملتا ہے۔پھر آپ کی خط و کتابت کا ایک سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے رہا اور جب کبھی کوئی سوال پیدا ہوا آپ نے بلا خوف لومتہ لائم حضرت سے پوچھا اور اس کا جواب پایا۔انہوں نے احمدیت کو ایک محجوب انسان کی طرح قبول نہیں کیا بلکہ ایک محقق اور مفکر کی حیثیت سے صداقت یقین کر کے قبول کیا۔