سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 52
52 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ حضور علیہ السلام کس طرح اول عمر میں ہی سے اس دنیا سے متنفر اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔یہ مکتوب آپ نے اپنے والد ماجد میرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی خدمت میں ایسے وقت میں لکھا تھا جب آپ بدوشباب میں تھے۔یہ مکتوب بھی آپ کی پاکیزہ فطرتی اور مطہر سیرۃ کا ایک جزو ہے اور وہ یہ ہے : حضرت والد مخدوم من سلامت ! مراسم غلامانہ وقواعد فدویانہ بجا آورده معروض حضرت والا میکند - چونکه در میں ایام برای العین می بینم و چشم سر مشاهده میکنم که در همه ممالک و بلاد ہر سال چناں وبائے می افتد - که دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشاں جُدا میکند۔ویچ سالے نہ می بینم کہ ایس نائزہ عظیم و چنیں حادثہ کلیم در آن سال شور قیامت نیگفند - نظر بر آن دل از دنیا سرد شده و رو از خوفِ جان زرد و اکثر این دو مصرع مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد می آیند و اشک حسرت ریخته می شود: تکیه بر عمر ناپائیدار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرعہ از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحتِ دل میشود: بدنیائے دون دل مبند اے جواں کہ وقت اجل می رسید ناگهان لہذا می خواهم که بقیه عمر در گوشہ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم چینم و بیاد اوسبحانه مشغول شوم۔مگر گذشتہ را عذرے و مافات را تدار کے شود عمر بگذشت و نماند است جز از گام چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند کہ دنیا را اسا سے محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے وائيس منخاف على نفسه من افت غيره والسلام اس خط کوغور سے پڑھنے پر عجیب معرفت ہوتی ہے کہ آپ کو آخری الہام جو اپنی وفات کے متعلق ہوا وہ بھی یہی تھا۔مکن تکیه بر عمر ناپائیدار مباش ایمن از بازی روزگار اور آپ نے یاد الہی میں مصروف ہونے کے لئے جس طرح پر والد مکرم سے اجازت چاہی ، اس میں بھی اسی سے استدلال فرمایا۔