سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 51
51 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایسا جکڑا جاتا ہے کہ اس کا ہر قدم خدا سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اس زمانہ میں شرفاء کی اولاد کی تعلیم گھروں پر ہی ہوتی تھی۔اس دستور کے مطابق آپ نے علوم وفنون عربی اور فارسی کی تعلیم اپنے دادا نواب فتح اللہ خان سے حاصل کی تھی۔چونکہ باپ دادا بڑے بڑے مناصب پر فائز تھے اس لئے سپہ گری کے فن کو بھی کمال خوبی سے سیکھا۔فوج کی سرداری ہیں برس کی عمر میں آپ شاہی فوج کے سردار بنائے گئے۔عرصہ تک آپ یہ خدمت سرانجام دیتے رہے اور ان خدمات کے صلے میں آپ نے ان مناصب کے برابر مناصب حاصل کر لئے تھے جو آپ کے دادا نواب فتح اللہ خان صاحب کو حاصل تھے۔لیکن یہ تمام مناصب اور یہ وجاہت اور یہ عزت اُن کے قلب کو مطمئن نہ کر سکتی تھی اور وہ اس دنیاوی ترقی اور وجاہت سے سخت متنفر تھے مگر صرف اپنے بزرگوں کی خاطر اور حکم سے محض براً بالوالدین اس غیر مرغوب خدمت کو بجالاتے رہے۔حضرت خواجہ محمد ناصر کی اس بات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ بات بہت ملتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری بزرگوں نے جب اپنی مختصر سی حکومت ضائع کر دی یا منشاء الہی سے ضائع ہو گئی تو آپ کے والد حضرت میرزا غلام مرتضی صاحب نے اپنی ساری عمر اس جائیداد کے حصول اور دنیاوی ترقی کے لئے صرف کر دی۔ان کے بڑے بیٹے مرزا غلام قادر صاحب ان کی منشاء کے مطابق دنیاوی کاروبار میں لگے ہوئے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کاموں سے سخت نفرت تھی وہ اپنی ایک الگ دنیا بنانی چاہتے تھے۔جس میں سوائے خدا کے نام کے اور کچھ نہ ہو۔مگر والد کی رضاء بھی ضروری تھی۔وہ اس غیر مرغوب اور نا پسندیدہ کام کو ایک لمبے عرصے تک ،کبھی ملازمت کی شکل میں، کبھی زمینداری کی شکل میں اور کبھی پیروی مقدمات کی شکل میں کرتے چلے گئے۔مگر ان کا دل کبھی نہ خوش ہوا اور نہ مطمئن۔بالآخر مشیت الہی نے آپ کے والد کو اپنے حضور بلا لیا اب آپ آزاد تھے۔آپ نے فوراً ہی خدمت دین کا کام جو اصل کام اور مقصدِ حیات ہے شروع کر دیا۔حضرت اقدس کا ایک عجیب مکتوب ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو ایک گرامی قدر مکتوب درج کیا جاتا ہے۔اس مکتوب