سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 622 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 622

622 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نہایت حسرت و افسوس اور گرم آنسوؤں کے ساتھ انزل فيها كل رحمۃ کے مقام میں دفن کر آئے۔اللهم اغفر له وارحمه وارفع درجاته في جنت العلی۔آمین وو دیکے از شاگرداں حضرت میر صاحب“ خاکسار نوراحمد منیر مولوی فاضل 1 حضرت میر محمد الحق صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں وہ نہایت ہی قیمتی اور مفید وجود جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت ام المؤمنین مدظلہ العالی کا بھائی ہونے کا فخر بخشا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے سایہ عاطفت میں پرورش اور تربیت پائی۔جس نے حضرت خلیفہ مسیح الاول سے دینی تعلیم حاصل کی اور جس نے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک عہد میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔اپنی زندگی کا آخری لمحہ تک خدا تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی خاطر قربان کر کے شہادت کے عالی شان رتبہ پر فائز ہو گیا۔حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ سے جو اصحاب تعارف کا شرف رکھتے ہیں اور جماعت احمدیہ کا کونسا فرد ہوگا جسے یہ شرف حاصل نہ ہو۔وہ جانتے ہیں کہ آپ خدمات دین سرانجام دینے میں دن رات کس سرگرمی اور جانفشانی سے منہمک رہتے اور اس میں کس قدر فرحت اور خوشی محسوس فرماتے تھے۔آپ دن رات میں سے صرف چند لمحات جو بشریت کے تقاضوں کے ماتحت اپنی ذات کے متعلق صرف کرنے پر مجبور ہوتے اور محنت و مشقت سے چور ہو جانے کے بعد از سر نو تازہ دم ہو کر خدمات دین ادا کرنے کے لئے اپنی ذات پر صرف کرتے۔وہ بھی دراصل خدا کی راہ میں ہی صرف ہوتے۔غرض آپ کی زندگی کا ہر ایک لمحہ خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کے دین کی خدمت کے لئے وقف تھا۔خدا تعالیٰ نے بھی آپ کی اس قابلِ رشک قربانی کو ایسا نوازا ایسا نوازا کہ آخری لمحہ تک ان کو اپنی رضا کے حصول میں صرف کرنے کی توفیق بخشی اور آپ دنیا سے منہ موڑ لینے کے معابعد بارگاہ الہی میں جا حاضر ہوئے۔جیسا کہ گذشتہ پرچہ میں لکھا گیا ہے۔۱۷ مارچ کو صرف ۲۴ گھنٹے کی علالت کے بعد حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کا اپنے مولا سے وصال ہو گیا۔وفات سے تھوڑی ہی دیر بعد غسل دے کر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تجویز فرمودہ خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے کا لباس بارہ بجے رات کے قریب پہنا کر جنازہ حضرت میر صاحب کی رہائش گاہ کے کھلے حصہ میں رکھ دیا گیا۔اور ۱۸/ مارچ کو