سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 50 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 50

50 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب عند لیب دور ثانی نواب روشن الدولہ کی شادی سیّد لطف اللہ صاحب ابن سید شیر محمد صاحب قادری نبیرہ حضرت تاج الدین ابوبکر بن عبد الرزاق بن حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی دختر سے ہوئی تھی۔اس نیک اور صاحب عصمت خاتون کے بطن سے حضرت خواجہ سید محمد ناصر صاحب عند لیب پیدا ہوئے۔ان کی پیدائش ۰۵لاھ میں ہوئی۔آپ کی تاریخ پیدائش شاہ بیدل نے یوں لکھی : در وجود آمد چو ذات آن ولی شد کمالات امامت سال تاریخش مرا الهام شد وارث علم خواجہ محمد ناصر کی زندگی کا دوراؤل حضرت خواجہ محمد ناصر کی زندگی پر دو دور آئے۔امامین ۱۱۰۵ھ از جلی و علی دور اول : پہلا دور تو یہ تھا کہ آپ ایک امیرابن امیر اور نواب ابن نواب کے گھر میں گویا منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے۔گھر میں زر و جواہر کے ڈھیر لگے ہوئے تھے چونکہ ایک طرف سے بلند مرتبہ سادات میں سے تھے اور دوسری طرف بلند مرتبہ ارکان حکومت میں سے اس لئے دنیا کی ہر قسم کی وجاہت حاصل تھی۔گھر میں نوکر چاکر ، لونڈی ، غلام موجود تھے اور دینی اعتبار سے عوام تو عوام شاہی خاندان کے دل میں بھی ادب تھا۔ایسی صورت میں آپ کی شان وشوکت کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آپ خوبصورت بھی تھے۔جب آپ کی سواری نکلتی تو تماشائیوں اور مشتاقان کا ہجوم جمع ہو جاتا اور عوام تو عوام بڑے رئیس بھی سلام کے لئے ٹھہر جاتے۔یہ میرا ذوقی امر ہے کہ ان کے چہرہ پر روشنی و درخشانی اس امانت کی وجہ سے تھی جو وہ اپنے صلب میں حضرت ام المومنین نصرت جہان بیگم کے نام سے لئے ہوئے تھے۔یہ وہ چیزیں تھیں جو ایک ناز و نعم میں پلے ہوئے انسان کو دنیا کا گرویدہ بنا دیتی ہیں اور وہ